خطبات محمود (جلد 6) — Page 575
(105) اکرام ضیف د فرموده ۱۷ار دسمبر له تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- میں نے ایک جمعہ چھوڑ کر اس سے پہلے تبعد مں نصیحت کی تھی کہ ہمارے قادیان کے دوست جلسہ کے کام میں منتظمین کی مدد کریں۔چونکہ اب جلسہ قریب آگیا ہے۔اور اگلا جمعہ تقریباً جلسہ کے دنوں میں ہی ہوگا۔کیونکہ عموماً جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے لوگ پہلے سے یہاں پہنچ جایا کرتے ہیں۔اس لیے میں جلسہ کے انتظام کے دوسرے پہلو کے متعلق احباب کو نصیحت کرتا ہوں۔ہر دفعہ بیاں کوشش کی جاتی ہے کہ ہرطرح مکل انتظام ہو مگر پھر بھی کچھ نقص رہ جاتے ہیں۔اور مہمانوں کی خاطر ومدارات ایسی نہیں ہوتی جیسی کہ ہونی چاہیتے۔اس میں شبہ نہیں کہ اتنے بڑے اجتماع کا انتظام ایک دو مہمانوں کے انتظام کی طرح نہیں ہو سکتا۔اور اس تعداد کے لحاظ سے جو قادیان میں رہنے والے احمدیوں کی ہے۔یہ شکل بھی ہے۔اتنا بڑا انتظام حکومت کر سکتی ہے کیونکہ اس کا تسلط وسیع علاقہ پر ہوتا ہے اور اسے سینکڑوں آدمی کام کرنے کے لیے مہیا ہو سکتے ہیں۔لیکن اس چھوٹے سے گاؤں میں ہمارے پاس اتنے کمرے بھی نہیں۔جن میں ہم اچھی طرح مہمانوں کو ٹھہرا سکیں ہمیں مجبورا دس دس ہیں ہیں آدمیوں کو ایک ایک کمرے میں رکھنا پڑتا ہے، لیکن اگر ہم زیادہ جگہ مہیا نہ کر سکیں۔تو ہم پر الزام نہیں۔کیونکہ جو شخص اپنے مہمان کو دال روٹی مہیا کر سکتا ہے۔اگر وہ یہی اپنے مہمان کے سامنے حاضر کر دیتا ہے تو اس پر ہرگز الزام نہیں آئیگا کہ اس نے کیوں مہمان کے لیے پلاؤ میانہیں گیا، بلکہ و شخص خدا کے نزدیک تعریف کے قابل ہوگا کہ وہ جو کچھ کرسکتا تھا۔اس نے کیا۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ بہت سے مہمان آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صحابہ میں تقسیم کر دیا۔ایک صحابی اپنے حصہ کے مہمان کو اپنے گھر لے گئے اور بیوی سے پوچھا۔کھانا ہے۔اس نے جواب دیا۔کھانا تو اب کوئی نہیں۔صرف بچوں کے لیے کسی قدر ہے۔انہوں نے بیوی سے کہا کہ میں تو آنحضرت صلعم کا ایک