خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 574

۵۷۴ پس ہمیشہ اپنے معاملات پر غور کرو کہ آیا وہ غلط تو نہیں یا ان کے ذرائع تو غلط نہیں۔ اگر کوئی خیال اپنی ذات میں موجب فساد ہے۔ تو اس کو چھوڑ دو۔ اور اگر خیال صحیح ہے مگر ذرائع ٹھیک نہیں تو انکو درست کرو۔ انکو اگر کسی کا قصور ہے تو اس کو بتاؤ۔ یہ نہیں کہ قصور زید کا ہو۔ اور بکر کو جس کا کوئی تعلق نہیں بتایا جائے۔ اگر کسی محکمہ میں ہوا اور اس میں تمہارے نزدیک کوئی خرابی ہے۔ تو جائز ذریعہ سے اس کو دور کرنے کی کوشش کرو۔ اور ان لوگوں کو توجہ دلاؤ - جو اس کو دور کر سکتے ہیں۔ اگر وہ توجہ کریں تو فبہا ۔ ورنہ اگر تم کو اس صیغہ کے حکام بالا سے کہنے کا اختیار ہے۔ تو تحریراً کہو اور اگر کہنے کا حق نہیں ۔ تو خاموش رہو۔ اور اس معاملہ کو خدا پر چھوڑ دو۔ اگر وہ لوگ غلطی کی دانستہ اصلاح نہیں کرتے۔ تو خدا ان کو خود درست کر دیگا۔ مگر تم اپنے افعال سے فساد کا باعث نہ بنو۔ کیونکہ جب ایسی حالت ہو کہ تمہاری کوئی نہ سنے تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَادْعُوهُ خَوْفًا وَ طمعا اس وقت اللہ کے حضور گر پڑو اور خوف اور طمع سے اس سے دوا کرو۔ اگر ت محسن ہو تو تمہارا کام او خیال ضائع نہ ہوگا کیونکہ إِنَّ رَحْمَةَ اللهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِين - اللہ کی رحمت محسنوں کے قریب تر ہے ۔ پس قانون کی پوری پابندی کرو۔ اور امن کے ساتھ اصلاح کرو۔ اگر تمہیں حق ہے۔ پھر تم کامیاب ہو جاؤ گے ور به جو شخص اس سلسلہ کو اپنے کسی رویہ سے فتنہ میں ڈالنا چاہے گا۔ وہ کامیاب نہ ہو گا۔ تم جب اصلاح کرنا چاہو ۔ تو پہلے نفس کی اصلاح کرو بعد میں دوسروں کی اصلاح کی طرف توجہ کرو۔ اللہ تعالی تمہیں توفیق دے کہ اپنے ذمہ کے کاموں کو سمجھو اور ان کی اہمیت کو معلوم کرو سب سے بڑا کام اتفاق ہے ۔ اس کو نہ توڑو اور اصلاح محبت سے کرو کیونکہ حقیقی اصلاح محبت سے ہی ہوتی ہے۔ اگر ہم میں فتنہ ہو تو پھر دنیا کی اصلاح کی امید نہیں۔ (دوسرے خطبہ کیلئے جب کھڑے ہوتے تو فرمایا ، معلوم ہوتا ہے کہ لوگ جمعہ کیلئے کچھ دیر سے آتے ہیں آج جب میں آیا تو چند آدمی تھے حالانکہ میرے خیال میں آج مجھکو دیر ہوگئی تھی ۔ دو تین جمعوں سے میں ایسا ہی دیکھتا ہوں حالانکہ جمعہ کر کے وقت ہو چکنا چاہیئے پہلی اذان اس لیے ہوتی ہے کہ لوگ جمع ہو جائیں پھر اس دن خطبہ بھی ہونا ہوتا ہے۔ اس میں بھی کچھ دیرا بھی ۔ / کچھ دیر لگتی ہے ۔ آیندہ ۱۲ بجے دوستوں کو بیاں پہنچ جانا چاہیے۔ اور اس میں احتیاط لازم ہے۔ ( الفضل ۱۶ دسمبر ته )