خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 572

۵۷۲ قاتل اور حضرت صاحب پر ایمان لانے کا مدعی ہو کر الیا کرے۔ وہ بہت ہی بڑا خطرناک قدم اُٹھاتا ہے۔ میں نے بتایا ہے کہ بعض کام جو لوگ کرتے ہیں اوران کا اثر اپنے نتائج بد کے لحاظ سے بہت وسیع ہوتا ہے۔ وہ بہت بڑا کام کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے اس فعل کا اثر یہ ہے کہ اس سے تمام نیکی مٹ جاتے ۔ حضرت عثمان کے وقت میں جو فتنہ ہوا ۔ وہ ایک ملکی جھگڑا تھا۔ مگر اس کا اثر اتنا پھیلا کہ حضرت عثمان شہید ہوئے اور مسلمانوں میں تلوار چلی گئی ۔ پھر اس کا کتنا خطرناک نتیجہ نکلا۔ لله تعلى فرماتا ہے۔ لا تُفْسِدُو فِي الْأَرْضِ بَعْدَ اصلاحیها و شخص بھی قابل سزا ہے جو اصلاح ہونے نہیں دیتا۔ اور اصلاح ہونے میں روک ڈالتا ہے، لیکن وہ بہت ہی بڑا مجرم ہے جو اصلاح ہونے کے بعد فساد کرتا یا اصلاح کے سامان کو خراب کرتا ہے۔ دیکھو اگر طبیب کے ہاتھ سے دوا گرا دی جاتی ہے۔ تو خطرہ نہیں۔ کیونکہ اور دوائی اور طبیب موجود ہے، لیکن اگر دوا کے ذخیرہ کو خراب کر دیا جائے تو گویا امید کو ہی مٹا دیا گیا ۔ پس احمدیت سر چشمہ امن و صلح ہے اور دو شخص سے بڑا مجرم ہے۔ جو احمدیت کا دم بھرتا اور خلاص ن درس اور وہ کا دعویٰ کرتا ہوا اپنے فعل سے اس سر چشمہ کو خراب کرنا چاہتا ہے ۔ منافق کہتے تھے کہ ہم اصلاح کرتے ہیں۔ کیا وہ اصلاح کا نام لے کر فساد کرنے سے مجرم نہ تھے۔ خدا تو ان کو مجرم ہی قرار دیتا ہے اور شہریر قرار دیکر کہتا ہے کہ وہ سزا سے نہیں بیچ سکتے۔ نیت نیک اگر ہو۔ تو عمل خراب نہیں ہوتا اگر کوئی کسے کہ میری نیت نیک تھی تو اس کا فعل بھی نیک ہونا چاہیئے ۔ اگر کوئی شخص نماز چھوڑ کر گلیوں میں پھر نا شروع کر دے اور کیسے کہ میری نیت یہ ہے کہ لوگوں کو نماز پڑھاؤں اور نماز کی طرف لاؤں تو یہ فعل اس کا مستحسن نہیں کہلائیگا۔ اور اس وقت تک وہ مومن نہیں ہو گا۔ جب تک خود وہ نماز نہیں پڑھتا۔ اسی طرح اگر کوئی ایسی بات یا فعل کرتا ہے جس کا نتیجہ فساد ہوتا ہے اور کہتا ہے کہ میری نیست اصلاح کی تھی۔ تو یہ نیک نیتی نہیں۔ کیونکہ اصلاح کا نتیجہ امن ہونا چاہتے تھا نہ کہ فساد انسان خود پہلے اپنے نفس سے اصلاح شروع کرے یہ تب دوسروں کی اصلاح کر سکتا ہے۔ اور وہی کام مفید ہو سکتا ہے جس کا دین پر اثر نہ پڑے ۔ اگر کوئی شخص ایک جان سکے بچانے کے لیے لاکھوں روپیہ بھی خرچ کر دے ۔ تو اس کا یہ فعل اچھا ہو گا، لیکن اگر کسی کے خوش کرنے کے لیے ایک نماز بھی چھوڑے تو گنہگار ہوگا۔ مثلاً اگر سو ہندو کہیں کہ ہم مسلمان ہو جائیں گے۔ تم ظہر کی نماز نہ پڑھو۔ تو ان کے کہنے پر نمازہ نہ پڑھنا گناہ ہو گا ۔ ایک جان کے لیے لاکھوں روپیہ قربان کرنا جائز ہے۔ مگر ہزار جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے ایک نمانہ چھوڑنا گناہ ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص