خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 565

۵۶۵ پس ہر کام کے لیے جس میں جسم کا تعلق ہو، تربیت اور شق ہونی چاہیے ۔ نماز کے لیے بھی مشق کی ضرورت ہے۔ بہت ہیں جو تہجد کی تڑپ رکھتے ہیں۔ مگر نہیں اُٹھ سکتے ۔ اس لیے کہ ان کو شق نہیں ۔ اسی لیے رسول کریم نے ان میاں بیوی کی تعریف کی ہے۔ جو ایک دوسرے کو تہجد کے لیے اُٹھا ئیں ۔ کیونکہ اس طرح مشق ہوتی ہے۔ ایک چوکیدار حسن کو لوگوں کے اموال سے کوئی محبت نہیں ہوتی ۔ چند روپیہ لے کر سردی کی لمبی راتوں میں جاگتا ہے مگر تم باوجود اپنے اموال سے محبت رکھنے کے رات کو نہیں جاگ سکتے۔ اس کی کیا وجہ ہے ہیں کہ اس نے مشق کر کے اپنے جسم کو ایسا بنایا اور م نے اپنے جسم کی تربیت نہیں کی۔ یہ ایک ضروری نکتہ ہے مگر افسوس ہے کہ اس کونہیں سمجھا گیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہر ایک کام میں نقص رہتا ہے۔ ایک شخص کو کوئی صیغہ سپرد کیا جاتا ہے ۔ وہ اس کے متعلق علم حاصل نہیں کرتا نہیں دیکھتا کہ پہلوں نے اس کام کو کیا۔ تو کس طرح کیا۔ کیا کیا نقص ہوئے کس طرح اصلاح ہوئی ، کیا رکاوٹیں پیشش آئیں۔ اور خود اس کو جو در قتیں پیش آئیں۔ وہ ان کو بھی نہیں لکھتا ۔ ہمارے ہاں جلسہ پر انتظامی امور میں بعض نقص ہوتے ہیں۔ اس وقت بوجہ اخلاص کے در دبھی محسوس کیا جاتا ہے مگر ان نقائص کو لکھا نہیں جاتا ۔ اور اس لیے آئیندہ ان کے دُور کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکتی ۔ حالانکہ کام کرنے والوں کا قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی کام کو کرنا ہوتا ہے۔ تو اس کے متعلق کوشش اور مشق پہلے سے شروع کرتے ہیں۔ مثلاً جنگ میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں حملہ کرنا ہوتا تھا۔ تین تین مہینہ پہلے سپاہ سے مشق کراتے تھے اور جس علاقہ پر حملہ کرنا ہوتا تھا ۔ اس کے مصنوعی راستے اور اس کی پہاڑیاں بنا کر فوج سے اس پر حملہ کراتے تھے۔ جب وہ پختہ ہو جاتے۔ تب حملہ کرتے تھے۔ سکولوں میں جلسے کرتے ہیں۔ اگر کسی بڑے شخص نے آنا و تو کوی طالبعلم نظم پڑھتا ہے کوئی ایڈریس پڑھا ہے اور فرض کیا جاتاہے کہ وہ ہر شخص آگیا اسلئے کہ جب شخص آئے تویہ مکھتے ثابت نہ ہوں اور تواور یہ بحیث نائکوں والے جنھوں نے ملک کے اخلاق بگاڑ دیتے ہیں۔ یہ بھی پہلے مشق کرتے ہیں پھر سٹیج پر آتے ہیں۔ اب ہمارے جلسہ کا موقع ہے ۔ ہائی سکول کے لڑکے یا اور جو ٹیشن پر مہمانوں کو رسیو کرینگے ۔ اگر ان کو مشق نہیں تو مہمانوں کے لیے تکلیف کا باعث ہونگے ، لیکن اگر ان کو مشق کرائی جائے ۔ تو مفید ہو سکتے ہیں۔ اور اس کا طریق یہ ہے کہ فرض کر لیا جائے کہ ریل آگئی۔ تمام لڑکوں کے بہتر کمروں میں باندھ کر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کو فرض کیا جائے کہ گاڑیوں میں مہمانوں کے بہتر ہیں اور کپتان ویل کرے اور ماتحت لڑکے فوراً جس طرح گویا ریل آکر ٹھہر گئی کمروں میں داخل ہوں ۔ اور بستروں کو فوراً نکال لائیں اور اگر جلسہ سے پہلے پانچ سات دفعہ یا جتنی ضرورت ہو ان سے سے مشق کرائی جائے ۔ تو وہ اب بغیر تربیت کے جتنا کام