خطبات محمود (جلد 6) — Page 564
۵۶۴ قدر مفیں سیدھی کرنے کی تاکید ہے ۔ مگر نماز میں عموماً صفیں ٹھیک نہیں ہوتیں، لیکن فوج کے سپاہی جو دس دس روپیہ کے نوکر ہوتے ہیں اور جن کو کوئی اخلاص نہیں ہوتا۔ کیسے اپنی صفوں کو سیدھا رکھتے ہیں اور جب تیز چلتے ہیں۔ تب بھی ان کی صفیں ٹھیک رہتی ہیں۔ تم میں اخلاص ہے۔ مگر چونکہ تربیت نہیں ہے۔ اس لیے تم صفیں سیدھی نہیں کر سکتے ۔ اور ان کے پاس اخلاص نہیں ۔ صرف تربیت ہے ۔ وہ اس کام کو کر سکتے ہیں ۔ پس تمہیں خواہ کتنا ہی ایمان حاصل ہو مگر جب تک تم الف ب نہیں پڑھو گے ۔ اور حسب قاعدہ زبان سیکھنے کی کوشش نہیں کرو گے تمہیں زبان عربی یا کوئی اور زبان نہیں آئے گی۔ یاد رکھو کہ جہاں جسم ساتھ ہوگا۔ وہاں محض اخلاص کام نہیں دیگا ۔ بلکہ اس کے لیے تربیت حاصل کرنی پڑیگی۔ اخلص کا تعقی محض روح سے ہے لیکن جہاں نسیم سا سے ہے لیکن جہاں خیم ساتھ ہو۔ وہاں اخلاص کے ساتھ تربیت بھی ہونی چاہیے۔ شریعت نے نماز فرض کی ہے، لیکن چونکہ نماز کا تعلق حجم سے بھی ہے ۔ اس لیے جب جسم بیمار ہو تو شریعت کہتی ہے بیٹھ کر یا لیٹ کر یا اشارے سے نماز پڑھ لو۔ نماز جو اصل میں روح کا فعل ہے جسم کے بیمار ہونے سے لیٹ کر ہی پڑھی جاتی ہے ۔ حالانکہ جسم کے بیمار ہونے کے ساتھ روح بیمار نہیں ہوتی بلکہ ہے۔ لبسا اوقات بیماری میں روح اور زیادہ خدا کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ تو لیٹ کر پڑھنے کی یہی وجہ ہے کہ چونکہ جسم بیمار ہوتا ہے ۔ اور نماز کے ساتھ جسم کا بھی تعلق ہے۔ اس لیے جسم کی رعایت رکھنی پڑتی ہے۔ ہیں سمجھتا ہوں کہ تم میں پچاس فیصدی ہیں جنہوں نے اس نکتہ کو نہیں سمجھا کہ ان کاموں میں جن میں جسم کا تعلق ہے محض روح کی صفائی کام نہیں دے سکتی تم میں سے خواہ ہر ایک حضرت ابو برین سے بھی ایمان میں بڑھ جاتے مگر جب تک تمہاری تربیت ٹھیک نہیں ہو گی محض ایمان و اخلاص سے دنیا کو فتح نہیں کر سکو گے ۔ ۔ غور کرو، بارش ہو رہی ہو۔ تمہاری ایک دیوار ٹوٹ گئی ہو۔ اور تم کو اندیشہ ہو کہ اگر چور ائیں گے۔ تو تمہیں لوٹ لے جائیں گے تمہیں گئے تمہیں اپنے مکان سے اور اپنے مال سے محبت ہے لیکن تم شکستہ دیوار کو نہیں بنا سکتے۔ ہاں ایک معمار جس کو تمہارے مکان اور مال سے کوئی محبت نہیں چند پیسے لیکر تمہاری دیوار کو تم سے بہت زیادہ اچھا بنا دے گا۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ تم باوجود محبت کے نہ بنا سکے۔ اور وہ با وجود محبت نہ رکھنے کے اچھا بنا سکا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس کام کے متعلق اس کی تربیت ہوتی ہے اور تمہاری نہیں ہوتی ۔