خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 557

۵۵۷ ہمارا حال بھی بعینہ یہی ہے ۔ ہماری جماعت کو اللہ تعالیٰ نے ایک بڑے مقصد کے لیے کھڑا کیا ہے ہم سے بھی اس کے کچھ خاص وعدے ہیں جس وقت ہم نے حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ایس وقت اقرار کیا تھا کہ ہم اسلام کوتا تھا کہ ہم اسلام و تمام عالم مں پھیلائیں گے۔ اور ہماری مثال اس سپاہی کی ہے جس کو گورنمنٹ نے اپنی فوج میں بھرتی کیا ہو۔ جب وہ بھرتی ہو چکتا ہے۔ تو اس وقت اس کا حق نہیں ہوتا کہ کے۔ میں فلاں خطرناک جنگ میں نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ وہاں جان کا خطرہ ہے۔ یہ اس کو پہلے سوچنا چاہتے تھا۔ جب بھرتی ہوگیا۔ تو گورنمنٹ جہاں بھیتی ہے۔ اسے جانا چاہیتے ۔ بھرتی ہونے والا پہلے ہی دن یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں فوج میں جو بھرتی ہورہا ہوں تو موت سے مجھ کو ڈر نہیں ہیں جب ہم خدا کی فوج میں بھرتی ہو گئے۔ تو اب آنے والے خطرات سے ہمارے لیے کوئی ڈرنہیں ہوسکتا۔ اگر ڈر ہوتا تو پہلے سوچنا چاہتے تھا۔ اگر کہا جائے کہ میں پہلے حکم نہ تھا۔ تو درست نہیں کیونکہ قبل اسکے کہ مسیح موعود کی بیعت میں ایک بھی شخص آتا ۔ خدا تعالیٰ نے مسیح موعود کے ذریعہ یہ اپنا اعلان کرا دیا تھا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا، لیکن خدا اسے قبول کریگا ۔ اور بڑے زور اور لوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دیا لیس یہ پہلے سے اعلان ہو چکا تھا کہ میں موجود کا تمام دنیا مقابلہ کریگی۔ اور جو اس کی بیعت کریگا ۔ اس کو تمام دنیا کے مقابلہ میں کھڑا ہونا پڑے گا۔ دنیا میں موجود کو رد کر دگی مگر خدا اس کو قبول کریگا اور اپنے زور اور جملوں کے ذریعہ اس کی صداقت ظاہر کر دیگا ۔ خدا کے حملے سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صحابہ کے ذریعہ ہوئے اور یہاں بھی خدا کے حملے مسیح موعود کے لیے آپ کی جماعت کے ذریعہ ہونگے۔ وہ حملے جو صحابہ کے ذریعہ ہوئے ان سے خون کے میدان رنگے گئے اسی طرح ہم کو بھی ایسے ہی میدانوں سے گزرنا ہو گا پس ہم نے مسیح موعود کو یونی نہیں مانا تھا۔ بلکہ سوچکر اور تمام مشکلات کو سمجھ کر قبول کیا تھا ۔ میں نے بتایا تھا کہ صداقت کے دشمن ہمیشہ اور ہر زمانہ میں ہوتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم کے وقت میں بھی تھے ۔ آج جبکہ آپ کا ایک غلام کھڑا ہوا ہے ۔ تاکہ دنیا میں اسلام کو پھیلائے۔ تو غیر تو غیر خود نبی کریم کو ماننے کا دم بھرنے والے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ پس جن رستوں ۔ رستوں سے صحابہ گزرے سے یہیں ہیں۔ ان سے زیادہ خطرناک راستوں میں سے گزرنا پڑے گا۔ اور ان سے زیادہ دقتیں ہمارے لیے درپیش ہونگی۔ کیونکہ صحابہ کے وقت دنیا اس طرح منتظم صورت میں نہ تھی جس طرح اب ہے اور م نہ اس وقت ایسے علوم اسلام کے مقابلہ میں نہ تھے۔ جیسے آب ہیں ۔ پس آج بھی ایسے لوگ ہیں جو ہم پر ہنستے اور نہیں پاگل کہتے ہیں اور تو اور بعض ہم میں سے بھی منافق طبع اور کمزور دل ہیں ۔ جیسا کہ رسول کریم کے