خطبات محمود (جلد 6) — Page 556
۵۵۶ فرمایا وَمَنْ ۔ - يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَکیم - ان معترضوں کی نظر محدود ہے جو کچھ ان کے سامنے ہے۔ یہ محض اسی کو دیکھتے ہیں۔ اور نہیں خیال کرتے کہ ان کے پیچھے کون ہے اور ان کی طاقت کہاں سے آتی ہے جس کے بل پر یہ کھڑے ہیں۔ جس چیز کا سہارا مضبوط ہوتا ہے۔ اسے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اور وہ دراصل کمزور نہیں۔ بلکہ بڑی طاقتور ہوتی ہے۔ دیکھو ہاتھ کا گوشت کتنا نرم ہوتا ہے۔ ایک بچہ بھی اس کو کاٹنے لگے۔ تو کاٹ سکتا ہے لیکن جب ایک طاقتور شخص اس ہاتھ کو کس کے منہ پر مارتا ہے تو اکثر اوقات دانت نکال دیتا ہے۔ سر پر مارتا ہے۔ تو بیہوش کر دیتا ہے۔ کیا یہ آس نرم گوشت کا کام ہوتا ہے نہیں۔ یہ اس طاقتور شخص کا کام ہوتا ہے۔ جس کا وہ ہاتھ ہوتا ہے تو مسلمان کمزور تھے اور منافق ان کو دیکھ کر طرح طرح کی باتیں بناتے تھے مگر مَنْ يَتَوَ جَعَلُ عَلَى اللهِ فَانَ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ - خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ تم انہی کو دیکھتے ہو۔ جو تمہارے سامنے ہیں۔ اس کو دیکھو جو ان کے پیچھے ہے جس پر ان کو سہارا ہے اور وہ خدا ہے جو بڑا زبردست اور حکمت والا ہے۔ اسی طرح شمشیر بذات خود کچھ نہیں کرسکتی۔ ہاں جب شمشیر زن کے ہاتھ میں ہوتی ہے تو اس وقت کام کرتی ہے۔ نادان ہے جو شمشیر کو دیکھتا ہے ۔ دانا رہی ہے جو شمشیر زن کو دیکھے۔ هو مل ہے کہ ایک بادشاہ کے لڑکے نے دیکھا کہ ایک سوار تلوار کے ایک وار میں جانور کے چاروں پاؤں کاٹ دیتا تھا ۔ اس زمانہ ہے ہا تھا ۔ اس زمانہ میں امتحان کے لیے چاروں پاؤں جانور کے باندھ کر کھڑا کر دیتے تھے اور شمشتریان ایک دالر میں چاروں پاؤں کاٹ دیتا تھا۔ لڑکے نے اس سوار سے وہ تلوار مانگی۔ مگر اس نے کہا۔ بیاں اس تلوار کو کیا کر گئے۔ تمہارے ہاں اور بہت سی تلواریں ہیں۔ لڑکے نے اپنے باپ بادشاہ کو کہا کہ فلاں سوار سے میں نے اس کی تلوار مانگی تھی ۔ مگر وہ نہیں دیتا۔ بادشاہ نے سوار کو بلا کر جھاڑا ۔ اور تلوار لے دی ۔ لڑکے نے تلوار چلائی۔ مگر اس کے چاروں پر تو کیا کھال بھی نہ گئی۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ سوار نے اس تلوار کی بجائے کوئی اور دیدی ہے۔ سوار کو بادشاہ نے پھر بلایا ۔ تو اس نے کہا کہ میں نے وہی تلوار دی ہے لایئے میں کاٹ کر دکھلاؤں۔ چنانچہ سوار نے تلوار لیکر جانور کے چاروں پاؤں کاٹ دیتے ۔ تب بادشاہ سمجھ گیا کہ اصل میں یہ تلوار کا کام نہ تھا۔ بلکہ اس شمشیر زن کا کام تھا ۔ تو مسلمان کمز ور تھے، لیکن ان کی شوکت کو ظاہر کر یا خدا نا ایمان دراصل ایک آلہ ہے جان کی طرح تھے مسلمان گر چونکہ خدا کے ہاتھ میں تھے ۔ اس لیے ان کی کمزوری کو دیکھنا غلطی تھی۔ خدا کو دیکھنا چاہیئے تھا۔ اللہ تعالی لیے کی فرماتا ہے ۔ مَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَإِنَّ اللهَ عَن بر حکیم جن کا اللہ پر توکل ہوتا ہے وہ ناکام نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو غالب ہے ۔ درا