خطبات محمود (جلد 6) — Page 545
ولده ہوتی ہے علم رکھتے ہیں۔ پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ جاہل ہیں۔ یہ انکسار نہیں بلکہ یہ کہ کہتی کہلائے گی اور اس کو عجز اور ر کسل کہیں گے۔ اسی طرح جو ہر ایک بات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس کا چھچھورا پن ہے ۔ اگر کوئی کا اگر قابل تعریف کام کرتا ہے اور ہر ایک کے سامنے ذکر کرتا ہے تو درست نہیں۔ اور اگر خوبی ہے اور اس کو بلا وجہ چھپاتا ہے تو یہ کینگی ہے ۔ عرض اچھی چیز کا ظاہر کرنا حد بندی کے ساتھ فطرت میں ہے اور ان کی حد بندی شریعت اور قانون قدرت کرتے ہیں۔ ملا کھانا پینا فطرت ہے۔ شریعت اور قانون قدرت نے مدینی کی۔ اگر زیادہ کھائی گا تو بیمار ہو گا۔ کم کھا ئیگا تو مر جائیگا ۔ اب ہم اسی فطرتی جذبے کے ماتحت دیکھتے ہیں کہ خدا نے ایسے زمانہ میں جبکہ صداقت میرٹ رہی تھی خدا کا وجود پوشیدہ ہو گیا تھا۔ حقیقت نگاہوں سے غائب تھی، سورج گرہن میں تھا۔ روشنی کی بجائے تاریکی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ وہ جس کو نجات دہندہ مانا گیا تھا۔ اس کے متعلق لوگوں نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کی طرف قدم اُٹھا ئینگے۔ تو تباہ ہو جائینگے۔ مذہب نے جس ذات کے متعلق بتایا تھا کہ اس پر بھروسہ اور اس سے پیوند ترقیات کا ذریعہ ہے اور جس کی ذات فیوض و برکات و انعامات کا سر چشمہ اور منبع ہے۔ اس کی ذات کو لوگوں نے تجربہ کے بعد کہدیا کہ وہم ہے۔ خیال ہے اور خدا کا خیال ترقی سے روکنے والا اور ذلت کے گڑھے میں دھکیل دینے والا ہے۔ خدا پر ایمان غیر مفید اور ترقی کے رستہ میں روک قرار دیا گیا۔ تمام مذاہب کو ڈھکو نسلہ کہا گیا ۔ کہ ایسے زمانہ تلاطم میں دور افق سے ایک چھوٹی سی کتی نظر آئی۔ مو میں جب بڑی بڑی طاقتوں اور جماعتوں کو مٹا رہی تھیں۔ اس چھوٹی کشتی پر ایک جری سوار ہے اور اس مضبوطی سے چیو چلا رہا ہے کہ ہے اور اس سے چپو چلا ہے کئے وہ ہلاک کر نیوالی موجیں جو بڑے بڑے جہازوں کو تباہ کر رہی ہیں۔ ان پر دو کشتی مہنس رہی ہے اور کہتی ہے میرا کچھ نہیں بگڑ سکتا۔ اس نے ایسی حالت میں دنیا کو بچانے کی کوشش کی۔ اور بتایا کہ وہ کون سی غلطیاں تھیں جن کے باعث تجربہ کرنے والوں کی کوششوں کے نتائج غلط نکلے ۔ وہ خدا نہ تھائین خدا میں ہو کر نا خدا تھا ۔ اس میں الوہیت نہ تھی لیکن وہ خدا سے ملانا تھا ۔ وہ انسان تھا مگر انسانیت ت ۔ سے بالا تھا۔ تم اس حکمت کا خیال کرو اور اس مصیبت ناک نظارہ کو سامنے لاؤ اور پھر اس کی کوششوں کو طاحظہ کرو جب تم ان باتوں کوخیال میں لاؤ گے تو تمہارے جسم پر بال کھڑے ہو جائیں گے۔ وہ جماعت کو ایسی کشتیاں دے گیا ہے جس سے جماعت نہ صرف خود بیچ سکتی ہے۔ بلکہ دو ٹراں کو بھی بچا سکتی ہے اس نے اپنی جماعت کو قوت بازو دی اور دل کو شجاعت اور دماغ کو نور اور تراست