خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 544

۵۴۴ ہر وقت غصہ میں رہے ۔ باہر ایک جگہ اور ہرکسی سے محبت کرتا پھرے پس اسی طرح یہ فطرت ہے کہ خوبی کو ظاہر کیا جائے ۔ اور برائی کو چھپایا جائے لیکن ان کی بھی حدود ہوتی ہیں ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ انسان ہر خوبی کو ظاہر کرتا پھرے ۔ یا ہر برائی چھپاتے بعض خوبیاں چھپائی جانی چاہئیں۔ اور بعض نقصوں کا اظہار ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً جن لوگوں پر کوئی ذمہ داری ملک یا قوم یا جماعت کی یا کی طرف سے عائد ہو۔ اور ان سے اس میں کوتاہی ہو۔ تو اس کا ان کو اظہار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی جزیل ہو۔ اس کو حکم دیا جائے کہ وہ فلاں مقام پر جائے مگر وہ نہ جاسکے ۔ یہ ایک نقص ہے اور غلطی ہے اب اس کا فرض یہ ہے کہ وہ بتاتے کہ میں اس مقام پر نہیں پہنچ سکا۔ کیونکہ اس کی غلطی کا اثر اس کی ذات تک ہی نہیں۔ بلکہ قوم پر پڑتا ہے ۔ یا جن خوبیوں کا اظہار چاہیئے اور کوئی شخص نہیں کرتا تو اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ شخص ان کو خوبی نہیں سمجھتا۔ یا اس میں اس خوبی سے اظہار کی طاقت نہیں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ کسی کے گھر میں خزانہ ہو۔ اور وہ اس کو نکالے نہیں۔ پس جو شخص کسی واقعی خوبی کو جس کا ظاہر کرنا فطرت میں داخل ہے ظاہر نہیں کرتا۔ تو سمجھو کہ اس کے دماغ میں فتور ہے کیسی کا خوبی کو ظاہر نہ کرنا دو صورتوں سے خالی نہیں ۔ اول یا تو اس شخص کو خوبی کا علم نہیں ۔ دوم یا وہ شخص بیمار ہے ۔ اس لیے اس خوبی کو ظاہر نہیں اول یا تو اس کو کر سکتا۔ بعض لوگ قتل و غارت کرتے ہیں۔ ان کا دماغ خراب ہوتا ہے اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ درجہ ان کو کیسی ہی غیرت کی بات ہو۔ غصہ ہی نہیں آتا ۔ جن لوگوں کو مطلق غصہ آتا ہی نہیں ۔ ان کو اعلیٰ و کے علیم نہیں کہا جائے گا۔ کیونکہ حیا اور چیز ہے اور نرمی اور چیز ہے۔ حیا اور شرافت یہ ہے کہ انسان اپنی خوبی پر فخر نہ کرے۔ تو خوبی کا ظاہر کرنا فطرت میں ہے بعض لوگوں نے قصہ بنایا ہوا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان کہاں تک خوبی کے اظہار کا حریص ہوتا ہے کہتے ہیں۔ ایک عورت نے انگوٹھی بنوائی ۔ وہ بین کر بہت سی تقریبوں میں گئی مگر کسی نے نہ پوچھا ۔ آخر تنگ آکر اس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی۔ عورتیں آئیں اور پوچھنا شروع کیا کہ بہن کچھ بچا بھی۔ اس نے ہر ایک کو کسی جواب دیا اور توسب کچھ مل گیا ۔ صرف یہ انگوٹھی بیچی ہے بعض عورت میں عجوبہ پسند ہوتی ہیں ۔ وہ کسی ایسی بات پر ہر ایک صدمہ کو بھلا دیتی ہیں کیسی نے کہا۔ بہن یہ کب بنوائی ۔ اس نے بینچ مارکر کہا کہ اگر کوئی ہے اتنا پوچھتا تو میرا گھر کیوں جلتا۔ تو بعض لوگ خوبی کے اظہار کے لیے گھر کے جلانے تک میں کسر نہیں چھوڑتے۔ اسی طرح بعض لوگ شہرت کے لیے گھر کو آگ لگا دیتے ہیں۔ یہ بھی مریض ہیں بعض لوگوں کے پاس خوبی