خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 542

۵۴۲ (100) خوبی کو ظاہر کرنا اور بُرائی کو چھپانا ا فرموده ۲ از نومبر ته) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ :- آج میں اسی مضمون کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں جس کے متعلق پچھلے جمعہ بیان کیا تھاکیونکہ اس امر کی طرف جماعت کی توجہ کم ہے ۔ کم ہے۔ دنیا میں دو باتیں ہمیں ایسی نظر آتی ہیں۔ اور ہر قوم اور ہر ملک میں نظر آتی ہیں جن کو دیکھ کر فیصلہ کے بغیرنہیں رہا جتا کہ یہ باتیں قطر میں داخل ہیں ۔ فطرت کے تقاضے اور انسانوں کی ذاتی اور تم اور ملکی عادتوں میں یہ فرق ہے کہ فطرتی تقاضے سب میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً بعض باتیں ہیں جو عیسائیوں میں بکثرت پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح بعض ہیں جو مسلمانوں میں اسی کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ بعض ہندوؤں میں پائی جاتی ہیں، لیکن جو فطرتی تقاضے ہیں وہ بلا تفریق مذہب و قومیت سب انسانوں میں پائے جاتے ہیں ۔ پس جو باتیں سب میں پائی جاتی ہیں۔ ان کا سب میں پایا جانا ثبوت ہے۔ اس امر گا کہ وہ فطرتی باتیں ہیں اور جو سب میں نہیں وہ غیر فطرتی ہیں۔ مثلاً کھانا پینا فطرتی تقاضے ہیں۔ اب یہ نہیں ہو سکتا کہ مسلمان کھائیں، عیسائی نہ کھائیں۔ عیسائی کھائیں۔ ہندو نہ کھائیں۔ بلکہ ہر ایک مذہب و قوم و ملک کے لوگ کھاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص نہ کھائے تو اسکا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ وہ اور چیز ہو گیا یا نہ کھانے والے کی قومیت بدل گئی بلکہ وہ اور دیگر لوگ اس کو بیاں سمجھیں گے اور وہ شخص اپنے علاج کی فکر کرے گا اور کسی طبیب کے پاس جائیگا۔ یا مثلاً خفتہ اور محبت یہ فطرتی جذبے ہیں۔ جو ہر انسان میں پاتے جاتے ہیں کیسی خاص قوم و قوم و ملک و مذہب سے یہ تعلق نہیں رکھتے اور اگر کسی شخص میں نہ ہوں تو جانو کہ اس کی بعض قوتیں مردہ ہیں جن کی وجہ سے ان جذبات سے خالی ہو گیا ہے ۔ غرض فطرتی جذبات اور تقاضے اور ہوتے ہیں اور ذاتی اور قومی اور فطرتی تقاضے سب میں پائے جاتے ہیں۔ اور غیر فطرتی خاص خاص میں بعض فطرتی باتیں اسقدر عام ہیں کہ وہ نہ صرف انسانوں