خطبات محمود (جلد 6) — Page 540
۵۴۰ کسی پر اس طرح کوئی اثر نہیں ڈال سکتے اور اس کو اپنی باتوں کی طرف متوجہ نہیں کر سکتے۔تو پھر دلائل سنانے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے عملی طور پر انہیں اپنی ہمدردی اور اخلاص کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے اور جب کسی کے اندر ہمدردی اور اخلاص اور درد پیدا ہو جائے تو پھر اس کو بتاتے کی ضرورت نہیں ہوتی۔خود بخود اس کا احساس ہونے لگ جاتا ہے۔بیٹڑی پکڑو تو آپ ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس میں بجلی ہے۔اسی طرح جس کے دل میں خدا کی محبت اور اخلاص ہو۔وہ اس کی مخلوق سے بھی محبت کرنے لگ جاتا ہے اور اس کو بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی جس کے پاس سے گزرتا ہے وہ خود بخود اس سے متاثر ہو جاتا ہے۔دیکھو مقنا طیس کے ساتھ لوہے کو اٹھا کر رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔مقتا میں خود بخود لوہے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اسی طرح وہ انسان جو قوت مقناطیسی اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے۔اس کو بولنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔خود بخود اس کا اثر پڑتا ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ گونگا بن کر بٹھا رہتا ہے۔وہ زبان سے بھی کام لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ خدا کی پیدا کی ہوئی ہے۔اسی طرح آنکھ سے دیکھتا۔ہاتھ سے چھوتا ہے جگر اس کی نیت یہی ہوتی ہے کہ اس سے دوسرے کا قلب صاف ہو گا۔وہ نگاہ ڈالتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس کا اثر ہو گا۔وہ بات کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ بے اثر نہ رہے گی۔اسی طرح وہ اپنے ہر ایک عضو کو اثر ڈالنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔اور جب وہ اس قدر ہتھیاروں سے کام لیتا ہے۔تو پھر اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔پس جس کی زبان۔آنکھ قلب اور جسم میں اثر پیدا ہو جاتا ہے۔اس کے اندر آگ نمودار ہو جاتی ہے۔اور جہاں آگ ہو گی اثر کئے بغیر نہیں رہے گی۔اگر کسی مکان میں آگ جلا دو۔تو وہ گرم ہو جائے گا۔اسی طرح جب کسی انسان کے اندر خدا کی محبت کی آگ پیدا ہوتی اور قلب میں ہمدردی کی آگ بھڑکتی ہے تو جسم - زبان - آنکھ۔ہاتھ میں اس کی تاثیر آجاتی ہے۔پس تم اپنے اندر ایسی آگ پیدا کرو اور اس کو پیدا کر کے لوگوں سے اخلاص اور محبت سے بات چیت کرو کیسی مسئلہ کے متعلق دلائل جاننے کا ثبوت دینے کے لیے نہیں۔بحث کرنے کے لیے نہیں چپ کرانے کے لیے نہیں۔بلکہ اس طرح ان سے ہمدردی کرد جس طرح ڈوبنے والے کو بچانے کے لیے کی جاتی ہے۔تم متضا میں بن جاؤ کہ لوگ خود بخود کھنچے آئیں۔تم آگ ہو جاؤ کہ لوگوں کے خس و خاشاک جل جائیں اور تمہارے ذریعہ پاک وصاف ہو جائیں، لیکن اگر تم نے علماء پر بھروسہ رکھا۔اور خود کچھ نہ