خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 54

وله کی کچھ پرواہ نہیں کرتے جو بہت ہی حیرت کی بات ہے وہ بات جو پوشیدہ ہو اور اس کے نتائج ظاہر نہ ہوں ۔ اگر اس میں اختلاف کیا جائے یا اس کے حاصل کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ تو انسان کو مجبور کہا جا سکتا ہے، لیکن جو اس قدر ظاہر ہو اور مشاہدہ میں آتی ہو ۔ اس میں ایسی مستی اور اس سے اتنی لا پرواہی بہت ہی تعجب انگیز ہے ۔ ثلاً اللہ تعالیٰ کا انکار ایک مذہبی معاملہ ہے اور اس کا اقرار دلائل چاہتا ہے کہ اگر اللہ ہے تو اس کے ہونے کے کیا دلائل ہیں۔ مگر بعض ایسی باتیں ہوتی ہیں جو قلوب سے متعلق اور قوانین نیچر کی مبرہن ہوتی ہیں اور انہیں میں سے ایک اتفاق ہے ۔ اس کے متعلق خواہ دہریوں سے پوچھو یا ہندووں سے خواہ برہموؤں سے پوچھو یا پار پارسیوں سے سیکھوں۔ کھوں سے پوچھو یا بدھوں سے یا بدھوں سے غرض دنیا کی کسی قوم سے پوچھو سہی جواب ملے گا کہ اتفاق و اتحاد ہی مفید اور فائدہ بخش چیز ہے ۔ پس تمام لوگ اسکی ضرورت کو و تسلیم کریں گئے ۔ ہاں بعض افراد ہوں گے جو بحیثیت جماعت نہیں بلکہ انفرادی طور پر اتفاق و اتحاد پر فساد و فتنه ں کو ترجیح دیں گے لیکن یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ذاتی فوائد کو جماعت کے فوائد پر متقدم سمجھتے ہیں۔ ان کو چھوڑ کر باقی تمام دنیا کا عمومیت کے ساتھ اتفاق و اتحاد کی ضرورت اور فضیلت پر متفق ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اس کے فوائد بھی ظاہر ہیں۔ اور فساد و فتنہ کے نقصانات بھی ظاہر ہیں اور اگر د چین قدر خدا تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت اور براہین صاف اور واضح ہیں ان کے مقابلہ میں ان کو کچھ نسبت نہیں تاہم دنیا کی نظروں میں خدا کی ہستی کے بھی ایسے دلائل نہیں ۔ جیسے اتفاق و اتحاد کے فوائد اور نا اتفاقی و شقاق کے نقصانات ظاہر ہیں۔ کیونکہ یہ ایسی باتیں ہیں جن کو تمام دنیا کے لوگ مانتے ہیں۔ حالانکہ بہت لوگ ایسے ہیں جو خدا کی ہستی کے منکر ہیں۔ تو ان کو انسان اس طرح مانتے ہیں جس طرح دیگر قوانین نیچر مثلاً بھوک اور پیاس کو ۔ کوئی مذہب یہ نہیں کہے گا کہ جب بھوک لگے تو کپڑا پہن لینے سے پیٹ بھر جاتا ہے۔ یا پیاس لگے ے تو دوڑنے سے دُور ہو جاتی ہے۔ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کے لیے آسمانی قانون کی ضرورت ہو۔ قانون نیچر اس کے لیے کافی ہے ۔ اسی طرح اتفاق بھی ہے اور ہم تجربہ سے دیکھتے ہیں۔ کہ یہ بھی کسی قانون شریعت کے ماتحت نہیں۔ بلکہ قانون قدرت کے ماتحت ہے ۔ اور اس دنیا میں قانونِ قدرت کی خلاف ورزی کی سزائیں معین ہوتی ہیں، لیکن قانون شریعت کی نہیں۔ اگر کوئی قانون شریعیت کے کسی جرم کا ارتکاب کریگا۔ تو مثلاً اس کی اولاد مر جائے گی گی یا یا جا جا تیداد