خطبات محمود (جلد 6) — Page 539
۵۳۹ صرف اتنا ہی ہوتا ہے کہ لوگ نہیں دیتے ہیں مگر وہ جو اس لیے بحث کرتا ہے کہ لوگ ہدایت پائیں۔ اس کی باتوں کا اثر گہرا ہوتا ہے ۔ ۔ مگر بہت لوگ ایسے ہیں جو بحث بحث کے لیے کرتے ہیں اور یہ بات مد نظر رکھ کر دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں کہ انہیں ایسے دلائل معلوم ہیں جن سے مخالف کو چپ کرا دیں اور لوگوں میں بتائیں ہیں سے توحید کہ وہ کیسا کمزور اور بے علم ہے حالانکہ صداقت کے پہنچانے اور ہدایت کی طرف لانے کا یہ ذریعہ نہیں ہے۔ بعض اوقات کسی شریر کے مقابلہ میں یہ ذریعہ بھی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ جب کہ وہ عوام پر اس طرح اثر ڈالنا چاہتا ہو کہ میں بڑا عالم ہوں اور میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن عوام کے لیے یہ طرز عمل مفید نہیں ہو سکتا ۔ ان کے لیے یہی ہے کہ محبت اخلاص اور ہمدردی سے انہیں سمجھایا جائے ۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اثر کر جاتی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ ایک آدمی تو بڑا تغیر پیدا کر دیتا ہے اور دوسرا ایسا ہوتا ہے کہ اپنے پاس رہنے والوں کو بھی متاثر نہیں کر سکتا۔ اس لیے کہ اس کے دل میں وہ جوش وہ تڑپ وہ ہمدردی وہ اخلاص نہیں ہوتا ۔ جو دوسرے کے دل میں ہوتا ہے۔ تو خالی دلائل سے کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ جب تک اپنے اندر محبت - اخلاص سوز اور گداز نہ ہو۔ یہ اپنے اندر پیدا کرو۔ ان کے پیدا ہونے پر خود بخود تمہاری باتوں کا لوگوں پر اثر ہو گا ۔ اور اگر تم منہ سے نہ بھی بولو گئے۔ تو بھی تمہارے قلب کا اثمہ کام کرتا رہے گا صلحاء اور اولیاء کی مجلسوں میں بیٹھنے کا بھی بڑا اثر ہوتا ہے۔ اس کے لیے ان کے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انکے سانس لینے ۔ ان کے دیکھنے اور ان کے چھونے میں بڑا اثر ہوتا ہے۔ اور ان کے حکم سے نورانی شعاعیں نکلتی ہیں۔ ان کا اثر ہوتا ہے ۔ پس اپنے اندر وہ سوزہ اور گدانہ پیدا کرو کہ لوگ خود بخود تمہاری طرف کھنچے پہلے آئیں ۔ اور ہرایک اس فرض کو سمجھے تا ایسا نہ ہو کہ ہماری کوششوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلے ۔ اول یہ سن لو کہ ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ اشاعت اسلام کرے۔ پھر یہ بھی یاد رکھو کہ اس کے لیے جو ذرائع ہیں ۔ جب تک ان سے کام نہ لیا جائے ۔ نتیجہ نہیں نکل سکتا ۔ تمہارے دل میں لوگوں کا پیار محبت اخلاص ہونا چاہیئے اور ان کے لیے اپنے اندر قربانی کے جذبات پیدا کرنے چاہئیں ۔ اس کو دیکھ کر لوگوں میں تمہاری باتیں سننے سمجھنے اور ان سے فائدہ اُٹھانے کا خیال ہوگا لیکن اگر تم