خطبات محمود (جلد 6) — Page 528
۵۲۸ تو سب لوگوں کو اس میں لطف آتا دیکھو گے۔ مگر کیوں ؟ اس پر وہ بھی خاموش رہ جائیں گے۔ پس تمام دنیا پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ کوئی وجہ ہو یا نہ ہو۔ لوگ عادت یا ایسی باریک ہو تات کی بناء پر جن کا بیان کرنا ایک زائد تفصیل ہو جائے گی۔ اور جن کے بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مزا اٹھاتے ہیں۔ مگر باوجود اس کے لطف کے اور اس کے عام اور وسیع الاثر ہونے کے شریعت اسلام نے اور قریباً باقی تمام مذاہب نے اس سے منع کیا ہے۔ اگر ذرا غور سے دیکھا جائے۔ تو معلوم ہو جاتا ہے کہ وقتی مزے کے سوا جو غیبت کرنے کے وقت حاصل ہوتا ہے بعد میں اس کے بڑے بڑے خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔ بڑی بڑی قومیں تباہ برباد ہوجاتی ہیں۔ لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ دوستیاں اور رفاقتیں ٹوٹ جاتی ہیں محسنوں اور ہمدردوں سے تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں۔ رشتہ داریاں خراب ہو جاتی ہیں۔ گورنمنٹ اور رعایا میں فساد اور پیدا ہو جاتے ہیں۔ غرض بہت خطرناک نتائج نکلتے اور لوگ بہت دکھ اُٹھاتے ہیں مگر پھر بھی کرتے ہیں۔ سے ہے۔ نیبت کرنے میں انھیں مزا تو خیر آتا ہی ہے۔ مگر اس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں۔ زبان سے بات کہنے کا کیا ہے ۔ چنانچہ ایسے لوگوں سے جب پوچھیں کہ تم نے فلاں کے متعلق یہ کہا ہے تو کہتے ہیں۔ ہم نے تو کچھ نہیں کہا۔ بات تھی ۔ جو کہدی۔ تو وہ سمجھتے ہیں۔ زبان کچھ کرتی ہی نہیں۔ جو چاہیں کہدیں۔ اس کا کچھ نتیجہ نہیں ہو گا ۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ زبان ان چیزوں میں سے ہے جو انسان کو دوزخ میں گرانے میں بہت دخل رکھتی ہیں۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ نے اس کو حفاظت میں رکھنے پر زور دیا۔ ایک صحابی نے کہا زبان کا کیا ہے۔ فرمایا زبان کی باتوں کا جنم کو پیر کرنے میں بہت بڑا حصہ ہے یہ تو عام طور پر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ زبان کی بات کا کیا ہے۔ ہم نے تو بات کہی تھی ۔ کیا کچھ نہیں ۔ حالانکہ کہنا بھی ایک ایسی بات ہے جو ایمانیات میں داخل ہے چنانچہ ایمان میں یہ بات شامل ہے کہ انسان دل سے مانے اور زبان سے کیے۔ تو زبان کو ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے اگر ایک شخص خدا کو مانتا ہے۔ رسول کریم کو مانتا ہے ۔ مگر منہ سے نہ کیے تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے، ایسا شخص کا فر ہے پس جب بڑے بڑے خطرہ میں انسان زبان کی وجہ سے پڑ سکتا ہے۔ تو چھوٹے میں کیوں نہیں پڑ سکتا ۔ لوگوں کو یہ بہت بڑی غلطی لگی ہے کہ وہ زبان کی حقیقت کو نہیں سمجھتے ۔ حالانکہ اس کی بہت بڑی حقیقت ہے۔ ه بخاری بروایت مشکواة کتاب الادب باب حفظ اللسان والغيبة والشقم