خطبات محمود (جلد 6) — Page 517
۵۱۷ صلح کرانے کے لیے ایسے شورے کرنا مفید ہے۔پس یہ ایک ایسی ضروری بات ہے کہ اس کے لیے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا ہے۔اس لیے میں خاص طور جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم جانتک ہو سکے۔لڑائی سے بچیں نہ صرف خود بھیں بلکہ دوسروں کو بچائیں اور لڑائی کا موجب نہ نہیں۔رسول کریم صلی الہ علیہ ولم فرماتے ہیں کہ ایک شخص تیر پھینکتا ہے اور وہ تیر رستہ میں ہی گر جاتا ہے، لیکن دوسرا شخص اٹھا کر اس شخص کے سینہ میں چھو دیتا ہے جس کی طرف تیر مارا گیا تھا۔ایک شخص گالی دیتا ہے۔اور وہ اس تک نہیں پہنچتی۔جس کو دی گئی تھی۔مگر ایک دوسرا شخص اس کو اس تک پہنچا دیتا ہے اور فساد کا موجب بنتا ہے۔پس یاد رکھو کہ اگر تم فساد کے موقع پر کبھی گئے ہو۔تو یہ مت سمجھوکہ تم اتفاقا پہنچے ہو۔بلکہ قدرت نے تم کو اس لیے پہنچایا ہے کہ تمہارا امتحان لیا جائے۔اور یا تم عذاب اور غضب الٹی میں پھنسو یاتم خدا کی رحمت کے انعام پاؤ۔اگر تم ضاد کے بھڑ کانے کا موجب بنتے ہو۔تو تم عذاب اور غضب الہی کے مستحق بنو گے۔اور اگر اس فساد کو رفع کراتے ہو۔تو تم اللہ تعالیٰ کے انعام کے مستحق بنتے ہو اور یاد رکھو۔خدا کے فضل اور انعام سے کوئی مستغنی نہیں ہوسکتا۔حضرت موسی کہتے ہیں کہ خدایا ہر ایک خیر جو تیری طرف سے ہو۔میں اس کا محتاج ہوں۔پس تم موسیٰ تو نہیں ہو۔اس لیے بہت زیادہ محتاج ہو۔موسیٰ تو موسیٰ خدا کے فضل کے محتاج آنحضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں۔پس ہمیشہ فتنہ کے موقع پر ایسی بات کرو جس سے فتنہ دُور ہو۔فتنہ کی آگ مت بھڑ کا وہ فتنہ بھڑکانا ہونا ایک گناہ بے لذت ہے۔چور اور ڈاکو اپنی شرارت سے مال پاتے ہیں۔مگرفتنہ انگیزی کا کچھ بھی فائدہ نہیں۔فتنہ انگیز کے لیے لعنت کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ایسے موقع پر جو جذبہ پیدا ہو۔اس کو جانتا چاہتے کیونکہ فساد کا اثر دور تک پہنچتا ہے۔سول کریم صلی اللہ علی ولم نے سانس سال کی محنت کے بعد عرب میں اسلام پھیلا یا اور عرب کے جنگجوؤں میں صلح کرائی مگر فساد ڈلوانے والے فساد ڈلوانے کی تاک میں رہتے تھے۔ایک جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا شکر ایک مقام پر اترا۔ہر ایک شخص کی کوشش تھی کہ وہ پانی پہلے پتے۔اس پر دو شخصوں میں کچھ بات بڑھ گئی عبداللہ بن ابی ابن سلول منافقین کے سردار کو پتہ لگا۔دوڑتا ہوا آیا۔اور کہا کہ یہ مکہ سے بھٹو کے مرنے آتے تھے۔ہم نے جگہ دی۔آج ہمیں کو آنکھیں دکھاتے ہیں۔اچھا مدینہ چل کر زیادہ عزت والا ذلیل کو نکال دیا۔زیادہ عزت والا خود بنا۔اور ذلیل نعوذ بالشد آنحضرت صلی الہ علیہ سلم کو بنایا کسی شخص نے آنحضرتیے کو اس فساد کی اطلاع دی۔آپ کے پاس عبد اللہ کا بیٹا