خطبات محمود (جلد 6) — Page 511
۵۱۱ بڑھی۔پہلے مثلاً ہزار میں سے ایک سست تھا۔تو پھر چار پانچ ہو گئے۔پھر بیس تیس سال میں سو میں سے ایک نماز کا تارک ہو گیا چونکہ کثرت نمازیوں کی تھی۔اس لیے ایسے لوگوں کو ہمیشہ حقارت سے دیکھا گیا اور کہا گیا کہ یہ کیا کریں گے مگر اس کا وہی اثر پڑا جو اس کے مقابلہ میں غار حرا سے نکلنے والے کی اکیلی آواز نے نمازی بنانے کے لیے ڈالا تھا جس طرح غار حرا سے نکلنے والا در اصل ایک نہ تھا۔بلکہ اس کے ساتھ ملائکہ کی نورانی افواج تھیں۔اسی طرح اس کے مقابلہ میں جو تھا وہ بھی اکیلا نہ تھا۔بلکہ اس کے ساتھ بھی شیطانی اور ابلیسی ذریت تھی۔اور ظلماتی فوجیں اس کے ساتھ تھیں۔چنانچہ آج اس ظلماتی آواز کا یہ اثر پڑار کہ مسلمان ۹۹۹ ایسے ہیں جو نماز سے بے پروا ہیں۔چونکہ اس وقت تعاون علی الجور پر عمل نہ کیا جس شخص نے سُستی کی۔اس کی سستی دور کرنے کی کوشش نہ کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج بے نمازیوں کی کثرت ہوگئی۔اسی طرح بد دیانتی پیدا ہوئی۔یاد رکھو بد دیانتی پیدا ہونے کا پہلا قدم اپنے حقوق کی نگرانی ہوتی ہے۔دیانت اور امانت کے لیے حقوق کی نگرانی کی بجائے قربانی کرنی پڑتی ہے۔کیونکہ حقوق کی حدود تعریف وسیع ہے اور چونکہ ہر ایک کا کام نہیں ہے کہ اپنے حقوق کو صحیح طور پر سمجھ سکے۔اس لیے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے کرتے ایسی باتوں کا بھی مطالبہ کرنا شروع کر دیتے ہیں جن کا انھیں حق نہیں ہوتا۔تو اس طرح بد دیانتی کی طرف چلے جاتے ہیں۔پس وہ باتیں جو خلاف اسلام ہیں۔اگر ان کا علی الاعلان ارتکاب ہوتا دیکھو تو منع کرو اور تمہارے لیے ضروری ہے کہ ایسے موقع پر تعاون علی البر سے کام لو جین قوموں نے اس کو چھوڑا۔وہ تباہ ہو گئیں۔میں اپنی جماعت کے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اگر کسی کو نماز میں شست دیکھیں تو اس کو چیست بنائیں۔اور اگر کسی میں اور کوئی ایسی غلطی جو ظاہر میں نظر آتی ہو۔دیکھیں تو اس کو رفع کرنے کی کوشش کریں مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگوں کے عیب تلاش کرنے کے پیچھے لگ جائیں پس دوسروں کی اصلاح کا خیال رکھنا ایک نہایت ضروری امر ہے۔تم اس کو خوب اچھی طرح یاد رکھو۔ورنہ تم سے بھی وہ چیز جو ہمیں لی ہے چین جائیگی۔جبکہ سیلوں سے جو تم سے زیادہ قوت ور اور طاقتور ہاتھ رکھتے تھے۔اسی وجہ سے چھن گئی۔جس طرح ایمان سیلوں سے گم ہوکر ثریا پر چلاگیا تھا۔اب بھی جاسکتا ہے۔اور روشنی کی بجائے اندھیرا آسکتا ہے۔وہ لوگ جو پہلے تھے۔انھوں نے ایک ہزار سال تک اسلام کی شان دیکھائی وہ ہزار سال تک اسلام کو سنبھالے بیٹھے رہے، مگر ابھی تم پرتو چاہئیں سال ہی گذرے ہیں تمہیں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کسی نے کہا ہے۔