خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 510

۵۱۰ اس کی اصطلا میں ہیں۔ اس کا صحیح ترجمہ بھیڑ چا ہے ۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہماری زبان والوں نے بھی اس بات پر غور کیا تھا ۔ مگر جہاں اور علوم گم ہوتے یہ بھی گم ہو گیا۔ اور اب یہ لفظ کچھ زیادہ اچھے معنوں میں نہ رہا۔ تو بھیٹر چال کا اثر ہوتا ہے۔ جب مجالس وغیرہ میں دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص تارک شعائر ہے۔ تو دوسرے بھی ترک کر دیتے ہیں پس ضروری ہے کہ شعائر اسلام کے جو لوگ تارک ہوں۔ ان کی نگہداشت کی جائے۔ اور ان کو پابند بنایا جائے ۔ میرے نزدیک ایک فاسق فاجر سے اتنا نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ جتنا اس شخص سے پہنچتا ہے۔ جو نمازہ کا تارک ہے۔ کیونکہ وہ ہزار فاسق جو گناہ کرتا ہے۔ وہ چھپ کر اور پوشیدہ کرتا ہے ۔ اور یہ ایسا گناہ کرتا ہے۔ جو ظاہر ہے۔ اس لیے وہ ہزارہ ہو کر ایک ہے۔ اور یہ ایک ہو کر ہزار کے برابر ہے۔ کیونکہ اس کا فعل پبلک کے سامنے ہے۔ اور اس ہزار کا پوشیدہ ہے فسق و فجور اپنی ذات میں خواہ کتنا ہی خطرناک گناہ ہو۔ مگر اس کا اثر بنی نوع پر اتنا نہیں پڑتا۔ جتنا ایک ایسے شخص کا جو ظاہر میں نماز کا تارک ہو یا روزہ نہ رکھتا ہو۔ تو ایمان کی تکمیل کے لیے اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ انسان خود بھی احکام شریعت پر عمل کرے اور دوسروں سے بھی کراتے مگر افسوس ہے کہ ادھر بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔ غور کا مقام ہے کہ بڑھاپا ایک دن میں نہیں آیا کرتا۔ کوئی شخص نہیں جانتا کہ آج میں اتنا بوڑھا ہو گیا اور کل اتنا تھا ۔ بلکہ ایک خاص وقت پر کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص بوڑھا ہوگیا۔ حالانکہ دیر سے بوڑھا ہو رہا تھا۔ اسی طرح کوئی شخص ایک دن میں عالم نہیں ہو جا تا بلکہ آہستہ آہستہ علم میں ترقی کرتا ہے اور جس قدر ایک ایک منٹ میں ترقی ہوتی ہے۔ اس کو کوئی شخص نہیں جانتا۔ نہ بتا سکتا ہے۔ مگر ایک وقت آتا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص عالم ہے پس ترقیاں اور تنزل ایک ہی وقت میں نہیں آیا کرتے۔ بلکہ آہستہ آہستہ آتے ہیں اور ان کے مجموعہ کا نام ترقی یا تنزل رکھا جاتا ہے ۔ اسی طرح قوموں کا عروج یا بر بادی ہوتی ہے۔ ایک دم میں آسمان زمین نہیں بدل جایا کرتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ایک سو میں سے ایک سہو ہی مسلمان نماز پڑھنے والے تھے۔ مگر بعض لوگ شکست تھے اس وقت انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے رحیم شخص نے فرمایا تھا کہ جو لوگ نماز میں شامل نہیں ہوتے ۔ میرا دل چاہتا ہے کہ لکڑیاں لے جاؤں اور ان کے گھر کو آگ لگا دوں کہ وہ اندر ہی جل کر مر جاتیں ہے سننے والوں میں سے بعض نے اس کی قدر کی۔ اور بعض نے نہ کی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سست لوگوں کی اور تعداد له بخاری و مسلم بروايت مشكوة كتاب الصلواة في المساجد