خطبات محمود (جلد 6) — Page 505
۵۰۵ اس لیے معمولی نہیں کہ قرآن میں اس کے متعلق حکم دیا گیا ہے اور بیسیوں ایسے احکام ہیں۔ جن کا قرآن میں ذکر نہیں۔ مگر اس کا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرمایا ہے ۔ فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى الْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبْرَكَةً طَيِّبَةً تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تحفہ ہو۔ اس کو کون معمولی کہ سکتا ہے ۔ سکتا ۔ قرآن کریم میں اور کسی چیز کو اس رنگ میں تحفہ نہیں کہاگیا ۔ جیسے سلام کو کہا گیا ہے۔ حتی کہ مرنے کے بعد جو تحفہ خدا کی طرف سے انسان کے لیے آتا ہے ۔ وہ بھی یہی ہے کہ فرشتے آکر خدا تعالیٰ کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں۔ کوئی بڑے سے بڑا آدمی ہو۔ جو کسے مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں کسی کو سلام کہوں ہم کہیں گے۔ خدا تعالیٰ نے بھی جب اپنے اوپر واجب کر دیا کہ سلام کیے۔ تو اور کون ہے۔ جو اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی ضرورت نہ رکھتا ہو۔ سب سے پہلی چیز جو بندہ کو خدا تعالیٰ کی ملاقات کے وقت دیجاتی ہے۔ وہ یہی سلام ہے ۔ جبرئیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ۔ تو آپ کو سلام کہا۔ اور رسول کریم ان کو دکھ کر سلام کہتے ہیں۔ ان سے بڑا کونسا انسان ہے جسے سلام کہنے کی ضرورت نہ ہو۔ مگر بہت لوگ ہیں۔ خصوصاً انگریزی تعلیم یافتہ جو سلام کو بہت حقیر چیز سمجھتے ہیں۔ وہ اپنے عمل سے رسول کریم ۔ جبریل حتی کہ خدا تعالیٰ سے بھی اپنے آپ کو بڑا قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ جس حکم کو بہت سی حکمتوں کے ماتحت خدا تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔ بلکہ اپنی ذات کے لیے بھی رکھا ہے اور جس کی تاکید رسول کریم نے کی ہے اور خود جبرئیل کو کہا ہے۔ اس سے یہ لوگ اپنے آپ کو مستغنی سمجھتے ہیں۔ اول تو صرف ہاتھ سے اشارہ کر دیتے ہیں یا اتنا بھی نہیں کرتے۔ یا ایک دوسرے سے یوں ملیں گے۔ مولوی صاحب۔ اور اس کے جواب میں کہہ دیا جائیگا۔ بھائی صاحب ۔ یا یہ کہ سناؤ جی کیا حال ہے ۔ اسی قسم کے فقروں کو انہوں نے سلام سمجھ لیا ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ تین انگلیاں ملا دینگے اور یہ مصافحہ ہو جا تیگا لیکن شریعت کا یہ حکم نہیں۔ شریعت نے السلام علیکم کہنا ضروری قرار دیا ہے اور رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم نے اس کو اتفاق و اتحاد کی جڑ ٹھرایا ہے۔ اور نجات کا ستون بنایا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ دریافت کیا گیا کہ بہتر سلام کیا ہے۔ تو آپ نے خاص حکموں میں سے بتایا کہ غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا اور کسی کو جانو با نہ جانو۔ سلام کہنا یہ دونوں باتیں اتفاق و اتحاد کی جڑ ہیں۔ آج میں خطبہ کو ہیں بند کرتا ہوں کیونکہ وقت زیادہ ہو چکا ہے مگر تاکید کرتا ہوں کہ یہ ایک لے مشکوة کتاب الفتن باب فی اخلاقہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بخاری ومسلم بروایت مشکوة کتاب الاداب باب السلام