خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 505

اس لیے معمولی نہیں کہ قرآن میں اس کے متعلق حکم دیا گیا ہے اور بیسیوں ایسے احکام ہیں۔جن کا قرآن میں ذکر نہیں۔مگر اس کا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرمایا ہے۔فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى انفُسِكُم تَحِيَّةٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُبَرَكَةً طَيِّبَة تو اللہ تعالی کی طرف سے جو تحفہ ہو۔اس کو گون معمولی کہہ سکتا ہے۔قرآن کریم میں اور کسی چیز کو اس رنگ میں تحفہ نہیں کہاگیا۔جیسے سلام کو کہا گیا ہے۔حتی کہ مرنے کے بعد جو تحفہ خدا کی طرف سے انسان کے لیے آتا ہے۔وہ بھی یہی ہے کہ فرشتے آکر خدا تعالیٰ کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں۔کوئی بڑے سے بڑا آدمی ہو جو کسے مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں کسی کوسلام کہوں ہم کہیں گے۔خدا تعالٰی نے بھی جب اپنے اوپر واجب کر دیا کہ سلام کہے تو اور کون ہے جو اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی ضرورت نہ رکھتا ہو۔سب سے پہلی چیز جو بندہ کو خدا تعالیٰ کی طلاقات کے وقت دیجاتی ہے۔وہ یہی سلام ہے۔جبرئیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔تو آپ کو سلام کہا۔اور رسول کریم ان کو دیکھ کر سلام کہتے ہیں۔ان سے بڑا کونسا انسان ہے جیسے سلام کہنے کی ضرورت نہ ہو۔مگر بہت لوگ ہیں۔خصوصاً انگریزی تعلیم یافتہ جو سلام کو بہت حقیر چیز سمجھتے ہیں۔وہ اپنے عمل سے رسول کریم۔جبریل حتی کہ خدا تعالیٰ سے بھی اپنے آپ کو بڑا قرار دیتے ہیں کیونکہ جس حکم کو بہت سی حکمتوں کے ماتحت خدا تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے۔بلکہ اپنی ذات کے لیے بھی رکھا ہے اور حسین کی تاکید رسول کریم نے کی ہے اور خود جبرئیل کو کہا ہے۔اس سے یہ لوگ اپنے آپ کو مستغنی سمجھتے ہیں۔اول تو صرف ہاتھ سے اشارہ کر دیتے ہیں یا اتنا بھی نہیں کرتے۔یا ایک دوسرے سے یوں میں گئے۔مولوی صاحب۔اور اس کے جواب میں کہہ دیا جائیگا۔بھائی صاحب۔یا یہ کہ سناؤ جی کیا حال ہے۔اسی قسم کے فقروں کو انہوں نے سلام سمجھ لیا ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ تین انگلیاں ملا دینگے اور یہ مصافحہ ہو جائیگا، لیکن شریعیت کا یہ حکم نہیں۔شریعت نے السلام علیکم کنا ضروری قرار دیا ہے اور رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے اس کو اتفاق واتحاد کی جڑ ٹھرایا ہے۔اور نجات کا ستون بنایا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ دریافت کیا گیا۔کہ بہتر سلام کیا ہے۔تو آپ نے خاص حکموں میں سے بتایا کہ غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا اور کسی کو جانو یا نہ جانو - سلام کہنا یہ دونوں باتیں اتفاق و اتحاد کی جڑ ہیں۔آج میں خطبہ کو نہیں بند کرتا ہوں کیونکہ وقت زیادہ ہو چکا ہے مگر تاکید کرتا ہوں کہ یہ ایک شکواۃ کتاب الفتن باب فی اخلاقہ صلی الہ علیہ وسلم سے بخاری وسلم بردایت مشکوة کتاب الاداب باب السلام