خطبات محمود (جلد 6) — Page 502
۵۰۲ کر کے پہاڑ کی چٹان میں سوراخ کرے اور اس میں بیج ڈال ہے۔ تو اس وجہ سے کہ اس نے کئی سال کی مخت کی ہے۔ وہاں اچھی کھیتی نہیں ہوگی، لیکن اس کی نسبت نرم زمین میں بہت کم محنت کرنے سے اچھی کھیتی ہوجائیں۔ کیونکہ خداتعالی نہیں دیکھے گا کہ تھر پر بہت محنت کی گئی ہے۔ اور نرم زمین پرتھوڑی بلکہ یہ اور دیکھے گا کہ اس کے بناتے ہوئے قواعد کے ماتحت کسی نے محنت کی ہے اور ان کے خلاف کس نے لیں نتیجه همیشہ خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قواعد کے مطابق محنت کرنے سے ہی ملتا ہے ۔ ان کو چھوڑ کر خواہ کتنی ہی زیادہ محنت کیوں نہ کی جائے۔ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں میرا منشاء تھا کہ میں تفصیلی طور پر بیان کروں مگر چار پانچ ہی خطبوں کے بعد ایسے واقعات پیش آئے کہ میں تفصیل سے بیان نہ کر سکا۔ اور تمہید میں ہی انہیں چھوڑنا پڑا۔ پھر گزشتہ سال سے پہلے جلسہ پر میں نے عرفان الہی کے اکھول بیان کئے تھے اور بتایا تھا کہ عرفان اللی حاصل کرنے کے لیے اُصولی طور پر کیا قواعد ہیں۔ فروعات کے بیان کرنے کا نہ وہ موقع تھا اور نہ میں بیان کر سکا۔ اب اس کی فروع میں سے فروع میں سے ایک حصہ کے متعلق میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ توفیق دیگا۔ تو وقتاً فوقتاً بیان کرتا رہوں ۔ مگر مصلحت وقت کے لحاظ سے اس ترتیب کو جوئیں نے رکھی تھی۔ چھوڑتا ہوں اور ضرورت وقت کے لحاظ سے کھڑے ٹکڑے کر کے بیان کرونگا ۔ شریعت کے احکام کتنے اقسام کے ہیں۔ ان کے کیا اثرات انسان کی عقل فہم قوت طاقت تعلق باللہ جماعت اور قوم کی ترقی پر پڑتے ہیں ۔ اس کا پہلے بیان ہونا ضروری ہے لیکن چونکہ اصلی ترتیب کو میں چھوڑتا ہوں ۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں ۔ اس حصہ کو بھی چھوڑ سکتا ہوں۔ اور فی الحال میں اس ٹکڑھ کو لیتا ہوں جس میں بنی نوع کے آپس کے تعلقات کے احکام دیئے گئے ہیں۔ اور جن کی نگہداشت کئے بغیر ایمان کی تکمیل ناممکن ہے ۔ اس حصہ میں سے بعض احکام بیان کروں گا اور آج کے لیے جو حکم چنا ہے وہ ایسا ہے کہ اس سے ہر سلم واقف ہے یا اسے واقف ہونا چاہیے ۔ لیکن چونکہ کثرت سے اس کے استعمال کے مواقع پیش آتے ہیں۔ اس لیے لوگ اسے معمولی خیال کرتے ہیں اور یہ عام بات ہے کہ جو چیز کثرت کے ساتھ استعمال میں یا دیکھنے سننے میں آئے ۔ اس کو معمولی سمجھ لیا جاتا ہے۔ دیکھو سورج کو چونکہ لوگ ہر روز دیکھتے ہیں۔ اس لیے اسے دیکھ کر انہیں خُدا کی صنعت کا خیال نہیں آتا۔ حالانکہ یہ اتنی بڑی چیز ہے کہ اگر اس کا انہیں اندازہ بتایا جائے۔ تو حیران ہو جائیں۔ مگر ایک غبارہ اگر پچاس ساٹھ گز کا دیکھ لیں۔ تو شور مچا دیتے ہیں۔ تو جوچیز روز نظر آتی ہو۔ اس کا اثر آہستہ آہستہ دنوں سے مٹ جاتا ہے۔ اور اسے معمولی سمجھا جاتا ہے اور جو بھی کبھی