خطبات محمود (جلد 6) — Page 497
۴۹۷ کو ایک گالی کوئی دے تو وہ پلیش میں آجاتا ہے کسی کے ذرا سے اعتراض کرنے پر جسم جھکنے لگ جاتا ہے معمولی محبت اور پایہ پر انسان آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس ہستی سے محبت ہو جو تمام خوبیوں کی جامع ہے جو تمام صفات حسنہ رکھتی ہے اور پھر دینی رہے اور کس کو پتہ نہ لگے۔ ایک ملک ایک شہر ایک عورت ایک بچہ کی محبت تو ظاہر ہو جائے اور انسان کے اعمال میں اس کے آثار پائے جائیں ۔ مکان کی محبت تو پوشیدہ نہ رہے۔ عہدہ کی محبت تو دباتی نہ جا سکے۔ خطاب کی محبت کا تو پتہ لگ جاتے۔ سیاست اور قوم کی محبت تو اپنے آپ کو ظاہر کر دے مگر نہ کرے تو خدا کی محبت ظاہر نہ کرے۔ اور دنی کی دبی ہی رہے۔ میرے نزدیک یہ دعویٰ کرنا کہ خدا تعالیٰ سے محبت ہے۔ مگر اس کے آثار کا ظاہر نہ ہونا ایک مجنوناً دعویٰ ہے۔ اور جو شخص اس طرح دعوی کرتا ہے ۔ وہ یا تو خود مجنون ہے یا دوسروں کو مجنون سمجھتا ہے ۔ یا پھر اس کی عقل پر الیسا پردہ پڑ گیا ہے کہ اتنی بڑی غلطی کرتا ہے اور سمجھتا نہیں۔ یا وہ ایک بڑا شر پر اور باش آدمی ہے کہ اتنا بڑا جھوٹا دعویٰ کر کے خیال کرتا ہے کہ تمام لوگ پاگل اور معنون ہیں۔ جو اس کے دعوی کو صحیح مجھے میں گے کیونکہ میں طرح سر پر آئے ہوئے سورج کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے بھی واضح طور پر اس کے دعویٰ کا جھوٹا ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ اور اس سے زیادہ پاگل اور مجنون کوئی نہیں ہو سکتا ۔ مگر دنیا میں ایسے لوگ ہیں اور ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں نہیں ہزاروں نہیں ، لاکھوں نہیں کروڑوں پائے جاتے ہیں جس سے یقیناً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یا تو دنیا میں عقل کا معیار ایسا گر گیا ہے کہ اب جو کچھ بھی بے وقوفی کی بات اس کی طرف منسوب کی جاتے وہ جائز اور صحیح ہو جاتی ہے ۔ یا یہ کہ شرارت اور بدی عجیب اور نمبر اس قدر ترقی ر گیا ہے کہ ہر ایک انسان خیال کرتا ہےکہ میرے بسا عقلمند اور کون نہیں ہوسکتا ہیں جو چاہونگا۔ دارو سے منوا لونگا۔ ان دو نتائج کے سوا اور کوئی نتیجہ نہیں جو نکلے۔ کیونکہ ہم روزانہ دیکھتے ہیں صبح و شام دیکھتے ہیں۔ ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں اور ہزاروں آدمی جو ہمارے سامنے آتے ہیں مختلف پیشے کرتے ہیں۔ اور مختلف طرز عمل رکھتے ہیں ۔ ان کی زندگیوں میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت کا دعوای کرتے ہیں۔ جو بالکل جھوٹا اور باطل دعوی ہوتا ہے ۔ پس تم خوب یاد رکھو اور اچھی طرح سمجھ لو کہ محبت پیار اور عشق کوئی ایسی چیز نہیں ۔ جو چھپ سکے س کا چھپانا ممکن ہے اور قطعاً نا مکن ہے بعض لوگ کہا کرتے ہیں۔ ہمیں محبت تو ہے تحریم ای کا اظہار نہیں کرنا چاہتے، لیکن یہ جھوٹ اور غریب ہے۔ حضرت صاحب کے زمانہ میں بعض ایسے لوگ تھے جو آپ کی مجلس میں نہ آتے تھے۔ جب ان پر اعتراض ہوا تو کہ دیا ہمیں حضرت صاحب سے