خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 494

۴۹۴ اطاعت سے جو گریز کیا جاتا ہے۔ بالعموم اس کا باعث تکبر ہوتا ہے ۔ اور تکبر ہی وہ پہلی بدی ہے جو دنیا میں ہوئی۔ دنیا میں پہلے اباد استکبار ہی ہوا ہے ۔ دین کو الگ کر کے اگر دنیاوی لحاظ سے ہی دیکھا جاے تو ایک ایسی قوم کے لیے جو ترقی کرنا چاہتی ہے ۔ اطاعت کے بغیر چارہ نہیں۔ میں نے جس طرح اسلام کی تاریخ پڑھی ہے۔ اگر اور لوگ بھی اس طرح پڑھتے ۔ توان کو معلوم ہو جاتا کہ مسلمانوں کی ذلت و بربادی - نمکست و تباہی کا باعث یہی ہے کہ ان میں اطاعت کا مادہ نہ رہا۔ جب اطاعت نہ ہو تو انتظام قائم نہیں رہ سکتا۔ اور جب انتظام قائم نہ رہے تو کوئی قوم حاکم ہیں رہ سکتی۔ میں آج ایک راجہ کا سفر نامہ پڑھ رہا تھا جس میں لکھا ہے کہ چین میں اس نے دیکھا کہ امریکن اور اٹالین اور جرمن وغیرہ کی افواج جو چین میں پڑی ہیں۔ وہ روزانہ مصروف رہتی ہیں۔ اور الیا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو آج ہی جنگ در پیش ہے۔ مگر بر خلاف اس کے چین کی افواج کی یہ کیفیت ہے کہ اول تو ان میں ملکی لوگ نظر بھی کم آتے تھے۔ اور جو تھے بھی ان کی یہ حالت تھی کہ یورپین افواج کی بارکوں کے سامنے کھڑے نظر آتے تھے اور یورپین افواج کی ورزشوں وغیرہ کو لغو سمجھ کر تماشا کے طور پر دیکھتے تھے اس تمام خرابی کی کیا وجہ تھی یہی کہ وہاں انتظام نہ تھا۔ اور انتظام نہ ہونے کا باعث اطاعت کا نہ ہونا تھا ۔ جب یہ دونوں چیزیں نہ رہیں تو تمدن نہیں رہتا۔ اور تمدن نہ ہو تو غلامی رہ جاتی ہے ۔ جب ہم میں خلافت کی بحث شروع ہوئی۔ تو ایک صاحب نے کہا کہ اگر آپ کی اطاعت آیت استخلاف کے ماتحت نہ کی جائے ۔ بلکہ یوں کر لی جائے ۔ تو کیا آپ بیعت لے لیں گے۔ میں نے ان کو کها که آیت استخلاف کی غرض تو یہی ہے کہ مسلمانوں کا کلمہ متحد رہے ۔ اگر یہ منشار دوسری طرح بھی پورا ہو جائے تو کیا حرج ہے پس اطاعت دینی اور دنیاوی دونوں ترقیوں کے لیے نہایت ضروری اور لابدی ہے۔ ہمارا جن سے مقابلہ ہے وہ بہت منتظم ہیں۔ ان میں اطاعت بہت ہے۔ لیں جب تک ہم میں ان سے بڑھ کر انتظام اور اطاعت نہ ہو گی۔ تو ہم کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سینگے۔ ہمارے یہاں اول تو امیری غریبی چھوٹائی بڑائی کا کوئی سوال ہی نہیں ۔ سب بھائی بھائی ہیں۔ لیکن پھر بھی جو افسر ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ ما تحت ان کو سلام کرنا ہتک سمجھتے ہیں۔ مگر یورپ والوں کی یہ حالت ہے کہ اگر کوئی فوجی اپنے افسر کو سلام نہ کرے تو شام کو حوالات میں دیدیتے ہیں ۔ اس جنگ کے متعلق ایک ایڈیٹر کا بیان میں نے پڑھا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ میں نے ساری عمر میں جو تلخ تجربہ حاصل کیا ہے وہ یہ ہے کہ جنگ شروع ہوتی تو میں بھی فوج میں بھرتی ہو گیا۔ میرے دفتر کا ایک کلرک بھی اسی میں بھرتی ہوا۔ کلرک کی جسمانی حالت چونکہ