خطبات محمود (جلد 6) — Page 493
٤٩٣ ساتھ محلہ والوں کا فرض تھا کہ اس کے جنازہ کے ساتھ شامل ہوتے۔ کیونکہ اگر کوئی امیر بھی ہو۔ تو اس کا جنازہ خود بخود گاڑی میں نہ چلا جائیگا۔ یا فرشتے اٹھا کر قبرستان میں نہ لیجائیں گے ۔ بلکہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔ جو خوداری میں دیا اتے اک رات میں جائیں گے بلکہ لوگ ہی ہوتےہیں۔ جنازہ اٹھاتے ہیں، لیکن اگر کوئی کسی کی میت کے اُٹھانے میں شامل نہیں ہو گا ۔ تو اگر اس کے ہاں کوئی واقعہ ہو۔ تو پھر اس کا کیا حق ہے کہ دوسرے اس کے ہاں جائیں ۔ اس صورت میں اس کو شکایت کا ہو تو پھر اسکا کیا حق ہے کہ دوسرے اس کے ہاں جائیں۔ اس صورت کوئی حق نہ ہو گا ۔ اس قسم کی کوتاہیاں چھوڑ دو اور خدا کے لیے اور اس کے قرب کے لیے اس کی مخلوق نسیم سے ہمدردی کرد۔ اخلاق سیکھو، نرم کلامی سکھوتا کہ دل کی رضا تم کو حاصل ہو۔ ا حضور جب دوسرے خطبہ کے لیے کھڑے ہوتے تو فرمایا کہ ) میں نے دوستوں اور طبیبوں کے مشورہ کے ماتحت کل ایک مہینہ کے لیے باہر پہاڑی مقام پر جانے کا ارادہ کیا ہے ۔ میں اس امر کا بھی اعلان کر دیتا ہوں کہ میرے پیچھے انتظامی امور میں قادیان کی حمات کے امیر مولوی شیر علی صاحب ہونگے اور میری جگہ نماز مولوی سید سرور شاہ صاحب پڑھایا کرینگے۔ میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان کی اطاعت کریں۔ اطاعت دنیاوی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے اور دین کے لیے تو ہے ہی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔ مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى أَمِيرِی فَقَدْ عَصَانِی لے کہ جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی ۔ اس نے میری اطاعت کی ۔ اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی ۔ اس نے میری نافرمانی کی یہی حال حضور کے خلفاء اور ان کے مقرر کردہ اُمراء کا ہے میں نے تجربہ کیا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ خلفاء کی اطاعت کی تو کوشش کرتے ہیں، لیکن خلفاء کے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کا مادہ ان میں کم ہے۔ اور عام طور پر لوگ کہ دیتے ہیں کہ ان کو کیا حق ہے کہ ہم سے اطاعت کروائیں یا ہم ان کی اطاعت کریں لیکن اگر یہ کہنا درست ہے تو پھر خلفاء کا کیا حق ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے مجھے اور مجھ سے پہلے مولوی صاحب رحضرت خلیفہ المسیح اول ) کا کیا حق تھا کہ تم لوگوں نے ان کی اطاعت کی۔ یا میری کرتے ہو۔ یہ سب خدا کے حکم سے ہے ۔ تلوار ہمارے پاس نہیں۔ روپیہ ہمارے پاس نہیں کہ ہم اطاعت کے لیے تمہیں دیتے ہیں۔ اور اس کے ذریعہ ہمارے قبضہ میں آگئے ہو لیں تم جو اطاعت کرتے ہو۔ اپنے شوق سے اور خدا کی رضاء کے لیے کرتے ہو پھر ملفاہ کو چھوڑ کر انبیاء کے متعلق بھی یہی سوال ہوتا ہے کہ ان کو کیا حق ہے انبیاء کی اطاعت ہی خدا کے لیے ہوتی ہے نہ کسی حق کی بنا۔ پر۔ ه بخاری کتاب الجهاد والسير باب يقاتل من وراءه الامام و تبقى به