خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 493

ساتھ مجلد والوں کا فرض تھا کہ اس کے جنازہ کے ساتھ شامل ہوتے۔کیو نکہ اگر کوئی امیر بھی ہو تو اس کا جنازہ خود بخود گاڑی میں نہ چلا جائے گا۔یا فرشتے اُٹھا کر قبرستان میں نہ لیجائیں گے۔بلکہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔جو جنازہ اُٹھاتے ہیں، لیکن اگر کوئی کسی کی میت کے اُٹھانے میں شامل نہیں ہوگا۔تو اگر اس کے ہاں کوئی واقعہ ہو۔تو پھر اس کا کیا حق ہے کہ دوسرے اس کے ہاں جائیں۔اس صورت میں اس کو شکایت کا کوئی حق نہ ہوگا۔اس قسم کی کوتاہیاں چھوڑ دو اور خدا کے لیے اور اس کے قرب کے لیے اس کی مخلوق سے ہمدردی کردو۔اخلاق سیکھو۔نرم کلامی سیکھو تا کہ خدا کی رضا تم کو حاصل ہو۔ر حضور جب دوسرے خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ ) میں نے دوستوں اور طبیبوں کے مشورہ کے ماتحت کل ایک مہینہ کے لیے باہر پہاڑی مقام پیر جانے کا ارادہ کیا ہے۔میں اس امرکا بھی اعلا کر دیتا ہوں کہ میرے پیچھے انتظامی امور میں نادان کی حیات کے امیر مولوی شیر علی صاحب ہونگے اور میری جگہ نماز مولوی سید سرور شاہ صاحب پڑھایا کرینگے۔میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ان کی اطاعت کریں۔اطاعت دنیاوی ترقی کے لیے بھی ضروری ہے اور دین کے لیے تو ہے ہی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَاعَنِى وَمَنْ عَصَى امیری فَقَد عَصانی لے کر جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی۔اس نے میری اطاعت کی۔اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی۔اس نے میری نافرمانی کی یہی حال حضور کے خلفاء اور ان کے مقرر کردہ اُمراء کا ہے۔میں نے تجربہ کیا ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ خلفاء کی اطاعت کی تو کوشش کرتے ہیں لیکن خلفاء کے مقر کردہ امیر کی اطاعت کا مادہ ان میں کم ہے۔اور عام طور پر لوگ کہ دیتے ہیں کہ ان کو کیا حق ہے کہ ہم سے اطاعت کرائیں یا ہم ان کی اطاعت کریں لیکن اگر یہ کہنا درست ہے تو پھر خلفا کا کیا حق ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے۔مجھے اور مجھ سے پہلے مولوی صاحب رحضرت خلیفتہ المسیح اول کا کیا حق تھا کہ تم لوگوں نے ان کی اطاعت کی۔یا میری کرتے ہو۔یہ سب خدا کے حکم سے ہے۔تلوار ہمارے پاس نہیں۔روپیہ ہمارے پاس نہیں کہ ہم اطاعت کے لیے تمہیں دیتے ہیں۔اور اس کے ذریعہ ہمارے قبضہ میں آگئے ہو پس تم جو اطاعت کرتے ہو۔اپنے شوق سے اور خدا کی رضاء کے لیے کرتے ہو پھر خلفاء کو چھوڑ کر انبیاء کے متعلق بھی یہی سوال ہوتا ہے کہ ان کو کیا حق ہے انبیاء کی اطاعت ہی خدا کے لیے ہوتی ہے نہ کسی حق کی بنا پر۔له بخاری کتاب الجهاد والسير باب يقاتل من وراءه الامام و تقى به