خطبات محمود (جلد 6) — Page 49
10 ہر ایک چیز یں تغیر سے اچھے تغیر کیلئے دعائیں کرد فرموده در مارچ شاله ) ( حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اللہ تعالیٰ کی حکمت کے ماتحت میں آج بھی مجبوری کی وجہ سے وہ مضمون جو میں نے شروع کیا ہوا تھا نہیں بیان کر سکتا ۔ چونکہ ابھی تک میرا حلق اس قابل نہیں ہوا کہ سب تک اپنی آواز پہنچ سکوں ب اپنی اس لیے آج میں پھر اسی مضمون کو جس کے متعلق پچھلے جمعہ توجہ دلائی تھی کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ سورۃ فاتحہ میں علاوہ ان تمام معارف اور حقائق کے جو بیان کئے گئے ہیں۔ ایک معرفت کا نکتہ یہ بھی ہے ۔ کہ تمام مخلوق کی حالت یکساں نہیں رہتی مخلوق کی تغیر پذیری کہاں سے ثابت ہے ؟ سویار ہے کہ یہ بات الحمد لله رب العالمین سے ثابت ہوتی ہے۔ رب کے معنے ہیں کہ جو پہلے پیدا کر کے اور پھر اس کو ادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف ترقی دیتا ہوا لے جاتے۔ پھر اس کی ضروریات کے مطابق آہستہ آہستہ اس کو کمال تک پہنچاتے۔ یعنی رب کے ہیں۔ اور اس سورۃ میں بتلایا گیا ہے کہ تمام جہانوں کا رب اللہ ہے خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین پر نباتات ہو یا جمادات سب کا رب اللہ ہی ہے ۔ ایویلیوشن تھیوری اپنی اصلی صورت میں ہی ہے ۔ اس کے استعمال میں غلطی لگی ہے کہ آیا بندر سے انسان نے ترقی کی ہے۔ یا گیا۔ یورپ نے اس تھیوری کو اب ایجاد کیا ہے ، لیکن قرآن نے آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پیشتر اس حقیقت کو ظاہر کر دیا تھا۔ یورپ کی حیرت انگیز ایجادات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہر ایک چیز ادنی حالت سے اعلیٰ مدارج پر پہنچتی ہے۔ کیونکہ اگر کوئی ایسی چیز ہو جو ادنی حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف نہ جاتی ہو۔ تو خدا رب العالمین نہیں رہتا۔ اس نکتہ کو نہیں قرآن نے بنا دیا کہ ہر ایک چیز خواہ کہیں ہو۔ اس میں تغیر کرنے والا خدا ہے ۔ سورۃ فاتحہ تمہید ہے اس تفسیر کی جو خداوند عالم نے انسان کے سامنے دھری ہے ۔ پہلے فرمایا کہ ہر ایک چیز میں تغیر ہے۔ پھر فرمایا الرحمنِ الرَّحِیم خدا تعالیٰ کے انعام کے دو طریق