خطبات محمود (جلد 6) — Page 489
92 اعلیٰ اخلاق اپناؤ اور کامل اطاعت کرنا سیکھو (فرموده ۳۰ در جولاتی نشته ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- مذہب بیشک اعلی درجہ کی چیز ہے۔ مگر مذہب کا مفہوم جو عام لوگ سمجھتے ہیں۔ وہ اعلیٰ نہیں ۔ وہ دین و دنیا میں نہ روحانی اور جسمانی عالم میں کچھ بھی مفید نہیں۔ وہ مفہوم کیا ہے۔ جو عام لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ چند رسوم کے ادا کرنے کو مذہب کہتے ہیں ۔ ایسا مذہب نہ تو دنیا ہی کے لیے مفید ہو سکتا ہے، نہ خدا تعالیٰ تک پہنچا سکتا ہے اگر وہ رسوم نہ ہوں، تو کیا کی آجاتے اور اگر ہوں تو کیا زیادتی ہو۔ اگران کو ادا کیا جائے تب بھی انسان خدا سے دور ہی رہتے ہیں اور اگر نہ کی جائیں تب بھی دور ریس ایسے مذہب کے لیے جو دین و دنیا میں کچھ بھی مفید نہیں۔ کوشش کرنا اپنی کوششوں اور سعیوں کو ضائع کرنا ہے ، لیکن در حقیقت مذہب اس کا نام نہیں۔ بلکہ ان امور کا نام مذہب ہے ۔ جن سے روحانی اور جسمانی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ روحانیت اور جسمانیت دونوں کو صفائی ملتی ہے۔ اور روحانی اور جسمانی امن ملتا ہے، لیکن اگر یہ دونوں طرح کا امن نہیں ملتا تو کچھ نہیں۔ اور جس مذہب میں یہ نہیں ۔ وہ سچا مذہب نہیں ۔ مگر دلائل کی رو سے جو مذہب سچا ثابت ہو گیا ہے۔ اس سے یہ دوا دونوں باتیں حاصل نہیں ہوتیں۔ تو اس کے معنے یہ ہونگے کہ اس پر اس کے حسب منشار عمل نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔ مذہب ایسے قواعد و اصول کا نام ہے ۔ جن سے روح اور جسم کو امن کو لیکن بہت ہیں۔ جو بعض رسوم کا نام مذہب رکھتے ہیں۔ بعض صرفت ان رسوم کے ماننے والوں کا نام حاصل کر لینے کو مذہب قرار دیتے ہیں۔ یہ تینوں قسم کے لوگ مذہب سے دُور ہیں۔ یاد رکھو۔ درکھو۔ نماز پڑھنے کا ہی نام مذہب نہیں۔ روزہ رکھنے کا رکھنے کا ہی نام مذہب نہیں۔ حج کرنے کا ہی نام مذہب نہیں ۔ بلکہ مذہب کے جزء ہیں اور مذہب کا جو مدعا اور غرض ہے۔ اس کے حصول میں محمد ہیں ۔ مذہب وہ ہے جوان سب چیزوں پر حاوی ہے جو لوگ انہی باتوں پر کفایت کرتے ہیں۔ وہ در حقیقت اپنی عمروں کو ضائع