خطبات محمود (جلد 6) — Page 481
۴۸۱ علیہ وسلم ترقی کر رہے ہیں پس جس طرح فیا کی انتہا نہیں ، اسی طرح کسی شخص کا خدا سے الیا تعلق نہیں ہو سکتا میں کے آگے گنجائش نہ ہو جس طرح ظاہری تعلیم میں مدارج ہیں ۔ اور جوں جوں ان مدارج کو انسان طے کرتا چلا جانے علم میں بڑا درجہ پاتا جاتا ہے۔ اسی طرح تعلق باللہ کے متعلق بھی مدارج ہیں جس قدر کوئی مدارج طے کرتا چلا جائے گا، بڑارتبہ پاتا جائے گا لیکن جو ایک بڑی حد کو سامنے رکھتے ہیں اور نچلی حدوں کو چھوڑتے ہیں ۔ وہ مایوس ہو جاتے ہیں۔ جس شخص کو تھوڑے سے تھوڑا تعلق بھی اللہ سے ہے۔ وہ تعلق باللہ کہلا سکتا اور اسی سے بڑھتے بڑھتے ترقی ہو سکتی ہے۔ ہوشیار بڑھتی جس وقت لکڑی پھاڑنے لگتا ہے تو وہ لوہے کا پہلا حصہ اس میں گاڑہ نا شروع کرتا ہے۔ اور جوں جوں اس پر سہتوڑا پڑتا جاتا ہے۔ اسی قدر مو ٹا حصہ لکڑی میں داخل ہوتا جاتا ہے حتی کہ وہ لکڑی کو پھاڑ ڈالتا ہے ۔ اسی طرح جب انسان کے دل میں یہ بات ہو کہ وہ سمجھے اُسے خدا سے محبت ہے اور وہ چاہتا ہے کہ خدا کے قرب کی کوشش کرے۔ تو اس کو ایک حد تک تعلق باشید حاصل ہے جس طرح لکڑی میں لوہا گر جاتا ہے۔ بعینہ اسی طرح جس کے دل میں خدا کے ملنے کی تڑپ گڑ جاتی ہے ۔ وہ محبت ان تمام روکوں کو جو اس کے رستہ میں ہوتی ہیں۔ دُور کرتی چلی جاتی ہے ۔ لیکن جو لوگ تعلق بالشد اس کو کہتے ہیں کہ خدا ہر وقت سامنے رہے۔ اس میں شبہ نہیں کہی کی تعلیق باشد کے بڑے درجوں میں سے ایک درجہ ہے ۔ مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ اگر یہ نہ ہو تو ابتدائی درجات کو چھوڑ دیا جائے ۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے۔ تو وہ مایوس ہو جاتا ہے ۔ وہ لوگ جنہوں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ جب حضرت صاحب روٹی کھاتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ آپ کسی اور ہی خیال میں ہیں ۔ چھوٹا سا روٹی کا ٹکڑا توڑ کر اس کو انگلیوں میں ملتے جاتے۔ اور ریزہ ریزہ کرتے جاتے ۔ ایسا معلوم ہوتا کہ آپ نہیں بلکہ آپ کی انگلیاں کھا رہی ہیں ۔ اور چھوٹا سا ٹکڑا منہ میں ڈالتے۔ اس وقت آپ کی زبان پر اکثر آہستہ آہستہ جس میں ہونٹ ہلتے ہوئے نظر آتے اور کبھی ذرا بلند آواز میں سبحان الله سبان اللہ ہوتا جس کو آپ کے پاس بیٹھنے والا ہی سنتا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ وہ خواہ کسی کام میں ہوں خدا کی طرف ان کی نظر ہوتی ہے۔ : حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ حضرت مرزا مظہر جان جانان دہلوی کا ذکر سنایا کرتے تھے۔ انکے ایک مرید مولوی غلام علی صاحب بٹالوی تھے۔ مرزا مظہر جان جانان کے لیے ایک دن لڈو آتے اور انہوں نے مولوی غلام علی کو دیتے جنھیں انھوں نے کھا لیا۔ کچھ دیر بعد ان سے دریافت کیا کہ لڈو کہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کھا لیے ۔ آپ حیران ہوتے کہ ہیں کھا لیے ۔ انہوں نے کہا ہاں کھا لیے۔ کہا دونوں - کہا