خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 480

۴۸۰ کر سکتا ۔ گو بعض چیزیں غلطی سے ناممکن خیال کی جاتی ہیں اور بعض واقعہ میں ناممکن ہوتی ہیں۔ اور بہت سے کسی چیز کی تعریف سمجھنے کی وجہ سے کسی چیز کے ملنے یا نہ ملنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز کے مدارج رکھے گئے ہیں۔ اور ہر آخری حد تک پہنچنے کے لیے پہلے ابتدائی مدارج میں سے گزرنا اور ان کا طے کرنا ضروری ہے۔ اور پہلے تعریف معلوم ہونی ضروری ہے۔ مثلاً علم کی تعریف جب تک نہ معلوم ہو تو علم میں ترقی ہونا ناممکن ہے مثلاً اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ ایم اے کی کتب ہی علم ہیں ۔ بی اے کا علم نہیں ۔ یا بی اے کا علم ہے ۔ ایف اے کا علم نہیں۔ یا ایف اے کا علم ہے ۔ انٹرنس کا علم نہیں ۔ اسی طرح ابتدائی قاعدہ کے متعلق جو سمجھتا ہے کہ وہ علم نہیں۔ تو ایسا آدمی جو قاعدہ کو علم نہیں سمجھتا بلکہ ایم اے یا بی اے یا الیف اسے یا انٹرنس کو ہی علم سمجھتا ہے۔ کبھی علم حاصل نہیں کر سکتا۔ کیونکہ قاعدہ بھی علم ہے ۔ اور دوسرے مدارج بھی علم ہیں۔ اور آخری مدارج اسی وقت طے ہو سکتے ہیں۔ جب پہلے درجے طے ہوں ، لیکن جو شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگا وہ مایوس ہو جاتے گا۔ اور علوم کے حاصل کرنے سے رہ جائے گا۔ ایک شخص جو نشانہ لگانے والے کو دیکھتا ہے اور عین موقع پر مارنا ہی نشانہ سمجھتا ہے ۔ جب وہ ابتدار بندوق اُٹھائے گا۔ تو صحیح اور اعلی درجہ کا نشانہ نہیں لگا سکے گا ایس لیے مایوس ہو کر آئندہ بندوق چلانا چھوڑ دیگا، لیکن اگر وہ جانتا ہو کہ بندوق کا اُٹھانا بھی ایک علم ہے اور اور شست گانا بھی ایک علم یکن اگر وہ جانتا ہوگا کہ بدو چلانا بھی ایک علم ہے جو درجہ بدرجہ آتا ہے تو پھر اگر اُس کی گولی اس سمت کو جاتی ہے ۔ جدھر چلائی گئی ہے۔ تو اس کے لیے کوئی مایوسی کی بات نہیں کیونکہ وہ ترقی اور کمال پر پہنچنے کے قریب ہو رہا ہے ۔ پس بہت سے لوگ مقصد حاصل کرنے سے محروم اس لیے رہتے ہیں کہ وہ بڑے درجے کو آگے رکھتے ہیں۔ اور پھر اس کو ناممکن خیال کر کے مایوس ہو جاتے ہیں، چونکہ چھوٹے درجے ان کی نظر میں نہیں آتے ۔ اس لیے وہ رہ جاتے ہیں۔ اس وقت جو مضمون میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ وہ خدا کا یاد کرنا اور تعلق باللہ ہے۔ ہر مومن کا دل چاہتا ہے کہ خدا کو ملے اور اسکو خدا کی ملاقات حاصل ہو لیکن وہ سمجھتا ہے کہ اسکو خدا کی ملاقات حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس سے مایوس ہوتا ہے مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے علم وسیع ہے کسی خاص درجہ کا نام ہی علم نہیں۔ بلکہ ابجد سے لیکر ایم اے کی ڈگری اور اس کے آگے تک علم چلا جاتا ہے ۔ اسی طرح خدا کا تعلق بھی مراتب و درجات رکھتا ہے۔ خدا ایک نقطہ کی مانند نہیں بلکہ وہ ایک وسیع دائرہ کی مانند ہے جس کے کسی حصہ تک رسائی بھی خدا سے تعلق کہلائے گا۔ اور جوں جوں بڑھتا جائیگا۔ تعلق بھی بڑھتا جائے گا۔ اگر یہ ترقی نہ ہوتی تو ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعاؤں کی ضرورت نہ ہوتی تعلق باللہ میں اب بھی رسول کریم صلی اللہ