خطبات محمود (جلد 6) — Page 470
ما ہیں۔اس لیے یہ فطری مسائل ہیں۔پسی اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ مام جرائم سے بچنے کی کوشش کی جائے۔اور شریعت نے جو حکم دیتے ہیں۔ان پر عمل کیا جاوے۔کیونکہ بہت دفعہ اختلاف اپنی باتوں سے پڑتے ہیں۔مثلا شریعت کا حکم ہے کہ نماز پڑھی جاتے۔اب اگر کوئی شخص سوال کرے کہ نماز نہ پڑھنے سے کیسے اتحاد ٹوٹ سکتا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ گو یہ درست ہے کہ نماز پڑھنے والے پر نہ پڑھنے والے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا مگر بالطبع اس کو وہ برا معلوم ہو گا۔اور وہ خیال کرے گا کہ شخص خدا اور رسول سے محبت کا دعوی کرتا ہے۔اور مگر باوجود دعوئی محبت کے اس راہ کو چھوڑتا ہے جو پسندیدہ ہے یعنی نماز نہیں پڑھتا۔اس لیے پڑھنے والے کو نہ پڑھنے والے سے نفرت ہو جائیگی۔یا ایک شخص روزہ نہیں رکھتا اور رکھنے والے پر نہ رکھنے والے کا کچھ اثر نہیں، لیکن جب وہ دیکھے گا۔کہ اس کے محبوب خدا کے احکام کی بے قدری کی جارہی ہے۔اور محبوب بھی وہ جس کی محبت کا مدعی بے قدری کرنے والا بھی ہے۔تو اس کو اس سے نفرت ہو جائیگی۔تو شرعی جرم بھی خواہ براہ راست دوسرے پر اثر نہ ڈالیں۔مگر ان کی وجہ سے محبت و تعلق اور اتحاد و اتفاق ٹوٹ جاتے ہیں۔دوسرے اخلاقی جرائم ہیں۔ان کی بھی دو قسمیں ہیں۔اول وہ جو خود اس انسان کی ذات پر اثر کرتے ہیں دوسرے وہ جو غیر پر بھی اثر ڈالتے ہیں جو جرائم مجرم پر ہی اثر ڈالتے ہیں۔یہ قدرتی امر ہے کہ ان کا ریکاب کرنے والے شخص سے لوگ نفرت کریں گے کیونکہ جوکسی میں برائی دیکھے گا۔اس سے پیچھے ہٹے گا اور وہ جرائم جو دوسروں پر اثر ڈالتے ہیں۔ان سے بھی لوگ علیحدہ ہونگے۔مثلاً جو شخص قاتل ہے۔اس سے نفرت کی جائے گی۔جو غیبت کا عادی ہو گا اس سے نفرت ہوگی کیونکہ وہ اپنے اس فعل سے لوگوں میں لڑائی ڈلواتا ہے۔غرض جتنے اخلاقی حبیب ہیں وہ سب ایسے ہیں کہ ان سے نفرت ہوتی ہے۔اور نفرت اتفاق کو توڑتی ہے۔ان تمام اخلاقی جرائم میں جو اتفاق و اتحاد کو توڑنے والے ہیں۔بڑا جرم بدظنی ہے۔کوئی وجہ نہیں ہوتی۔یونی خیال کر لیا جاتا ہے۔کہ فلاں شخص کا میرے متعلق یہ خیال ہے۔اور اس طرح اس سے عدات کرنی شروع کر دی جاتی ہے۔یہ ایک ایسا مرض ہے جس کا یقینی نتیجہ ہے اتفاقی ہوتا ہے۔وہ لوگ جنہوں نے جماعت احمدیہ کو چھوڑا۔اور جو بھی جماعت احمدیہ کی طرف منسوب تھے۔اب ان میں احمدیت برائے نام ہے۔ان کی علیحدگی کی وجہ بنی ہی ہے۔اگر ان میں بدظنی نہ ہوتی۔تو وہ جماعت سے علیحدہ نہ ہوتے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے۔کہ جس دن حضرت خلیفہ اول کی وفات ہوئی۔عصر کے بعد مولوی