خطبات محمود (جلد 6) — Page 467
אחד هو باطل ہے۔ کیونکہ عیسائیت ایک مردہ مذہب ہے۔ اور اس میں روحانیت نہیں نہ روحانیت سے مقابلہ کر سکتی ہے۔ اس میں طاقت نہیں کہ دعاؤں کے ذریعہ مقابلہ کر سکے۔ باقی رہے دلائل ان سے یہ کہ ہے۔ ان سے یہ کیا مقابلہ کرسکے گی کیونکہ اس کے دلائل کی معقولیت اسی سے ظاہر ہے کہ تین ایک ہیں اور ایک تین پھر کہا جاتا ہے، خدا بہت محبت کرنے والا ہے ۔ اس کے لیے خدا کو عادل بنایا ہے اور عادل بنا کر کفارہ کا ڈھونگ گھڑا ہے کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو سولی دے دیا ۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو اس طرح وہ عادل بھی نہیں رہتا ۔ کیونکہ سارے جہان کے بدلے ایک شخص کو جو بالکل بے قصور ہو۔ پھانسی پر چڑھانا کہاں کا عدل ہے۔ کیا ان دلائل کو فطرت قبول کر سکتی ہے ؟ پس محض ایک ظاہری شان ہے جو ظاہری عیسائیت کے نام میں شریک ہے اور اسی کے بل پر عیسائیوں کا دعویٰ ہے کہ ہم مذہبی طور پر تمام دنیا کو فتح کرلیں گے ۔ یہ سارا دعوی محض حکومت کے بل پر ہے کیونکہ جو سامان آج عیسائی کہلانے والی سلطنتوں کے پاس ہیں۔ وہ کسی حکومت کے پاس نہیں ہوئے۔ تمام دنیاوی سامان جو جنگوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آج صرف عیسائیوں کے پاس ہیں۔ یا اگر کسی غیر عیسائی کے پاس ہیں تو وہ مسلمان نہیں۔ عام طور پر یورپ کی طاقتوں کے مقابلہ میں جاپان کا نام لیا جایا کرتا ہے۔ مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ جاپان کی حالت نہایت کمزور ہے۔ اور اس کے لیے مالی مشکلات ایسی پیش آجاتی ہیں کہ قریب ہوتا ہے کہ اس کا دیوالیہ نکل جاتے ہیں عیسائی طاقتیں مضبوط ہیں اور جو رنگ ان کا۔ ان کا ہے ۔ جو جو سامان ان کے پاس ہیں۔ دنیا میں کسی کو حاصل نہیں ۔ ان تمام سامانوں اور طاقتوں کے مقابلہ میں خاص سامان ہی کام کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے لیے اس زمانہ میں خدا نے تمام ترقیات کو اپنی طرف منسوب کیا ہے ۔ خا کی خا درد کے بغیرکچھ نہیں ہوگا جب یہ حال ہے تو ہارا کام تو چھ ھی نہ رہی ہیں تو مرن تو خون لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے کا موقع دیا گیا ہے۔ پہلوں کو جو چیز بڑی بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوتی تھی وہ ہمیں بہت آسانی سے مل رہی ہے پہلوں کو جانی اور مالی بڑی بڑی قربانیاں کرنی پڑیں ، لیکن ہمارے لیے ان کے مقالہ میں گویا کچھ بھی نہیں۔ ہمارے اندر اس وقت تک کابل کے دو واقعوں کے سوا کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا ۔ اور آئندہ بھی پہلوں کے مقابلہ میں اگر جانی قربانی کا موقع آیا۔ تو ہمیں غالباً اتنی قربانیاں نہیں کرنی پڑیں گی پس ہمارے لیے کام بہت کم ہے۔ قرآن کریم میں اس زمانہ کے متعلق آتا ہے ۔ واذا الجنة از لفت (التکویر (۱۴) کہ وہ زمانہ ایسا ہو گا کہ جنت بہت قریب کردی جائیگی، گویا کہ اب یہ حال ہے کہ ثمر قریب ہے۔ ہمیں ہاتھ بڑھا کرلے لینے کی ضرورت ہے۔ یا