خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 461

۴۶۱ للہ علیہ وسلم ہے۔ مگر وہ بھی پیٹ پر دو دو پتھر باندھے نظر آتا ہے پس اس سے معلوم ہوا کہ بھوک کی تکلیف سے کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا ہے۔ اگر بھوک کی تکلیف کے خیال سے روزہ ترک کرنا درست ہوتا تو انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے روز سے معاف ہوتے۔ بعض نادان جو اپنے آپ کو تعلیم یافتہ سمجھتے ہیں ، لیکن در حقیقت جاہل ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں ۔ روزے اس زمانہ کے لیے تھے جبکہ لوگ جاہل تھے اور وحشت ان پر غالب تھی ۔ اور وہ نفسانی جوشوں پر قابو پاتے ہوتے نہ تھے مگر آجکل کے لوگ علمی طور پر بہت ترقی کر گئے ہیں۔ اور ہم ایسی ترقی پاگتے ہیں کہ ہمیں ڈنڈے اور مشقتوں کے ذریعہ خدا کے جلال کا قائل نہیں کیا جاسکتا مگر ایسے لوگ نہیں جانتے کہ اگر عملی جدوجہد کے بغیر روحانی مراتب حاصل ہو سکتے تو محمد صلی اللہ علیہ سل کے لیے یہ جد وجہد ضروری نہ ہوتی ۔ کیونکہ ان سے زیادہ کون اپنے نفس پر قابو پاتے ہوتے ہو سکتا ہے اور علم میں کون آپ کا مقابلہ کر سکتا ہے مگر باوجود اس کے آپ ریاضت کرتے تھے۔ پھر جنکو وحشی اور ناتعلیم یافتہ کہا جاتا ہے۔ ان کی قربانیوں کا یہ لوگ کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ جو ان کو وحشی کہتے ہیں۔ یہ لوگ جو بڑے سے بڑا آئیڈیل پیش کر سکتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ قوم اور ملک کی خاطر اپنی ذات کو قربان کر سکتے ہوں اگر ہم اس کو مد نظر رکھیں اور صحابہ کے جوش اور قربانیوں کو نہ ہی بیجھیں۔ تو کیا اس کا بھی انکار کر دیا جائیگا کہ ان لوگوں نے اپنی قوم اور ملک کے لیے جو جو قربانیاں کیں۔ ان کا عشر عشیر بھی یہ لوگ نہیں کر سکتے ۔ پس یہ تفریط کا پہلو ہے اور یہ نادانی کے خیالات ہیں۔ خدا کے احکام کو حیلے بہانوں سے ٹلا نے کی کوشش نہ کرو۔ شریعت اسلام لعنت نہیں ہے بلکہ رحمت ہے۔ یہ فضل کی بارش ہے۔ فضلوں کی بارش سے نادان کے سوا کوئی نہیں بھاگتا۔ کیا وہ زمیندار دانا ہے جو وقت پر ہونے والی بارش سے اپنے کھیت کو بچانے کی کوشش کرے بلکہ وہ تو کوشش کریگا کہ تم پانی کو جمع کرے۔ اور اگر اس میں دینداری اور تقویٰ نہ ہو۔ تو وہ یہاں تک منصوبہ کرتا ہے کہ لوگوں کے کھیتوں کا پانی بھی اپنے کھیت ہی میں ڈال ہے۔ وہ پانی کی حفاظت کے لیے منڈیریں بناتا اور سو سو جتن کرتا ہے۔ اسی طرح اسلام خدا کا فضل ہے۔ جو شخص اس کے احکام کی تعمیل سے بچنا چاہتا ہے۔ وہ خدا کے ان فضلوں والی شریعت کو لعنت قرار دیتا ہے۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ اگر وہ شرابت کو لعنت نہیں سمجھتا تو اس سے بچنے کے لیے حیلے بہانے تلاش کرتا ہے ۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ خوب سمجھ لے کہ شریعت خدا کی رحمت ہے۔ اس کے احکام کو ملانے کے لیے بہانے تلاش کرنا جائز نہیں۔ وہ شخص جو شریعت کے احکام کو ٹلانا چاہتا ہے ۔ ہلاکت کو بلاتا ہے ل مجمع بحار الانوار جلدا زیر لفظ حجر