خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 460 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 460

۴۶۰ آخریڑ کی زور کر کے گھٹڑوں کی طرف گئی اور ان پر گر کر مرگئی ۔ تو جنہوں نے افراط کی انہوں نے تو یہاں تک کی اور جو تفریط کی طرف گئے ہیں وہ اچھے خاصے موٹے ہٹے کٹے ہوتے ہیں۔ مگر روزہ نہیں رکھتے۔ جب پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ تکلیف ہوتی ہے ان کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ہم کب کہتے ہیں روزے اس لیے آتے ہیں کہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔ روزسے تو آتے ہی اس لیے ہیں کہ تکلیف دی جائے اور وہ تکلیف بھی جو دی جاتی ہے۔ اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے دیکھو ایک شخص کو بخار ہو۔ اس کو کونمین دی جاتی ہے اور جب کو تین کھائی جائیگی تو منہ ضرور کرڑوا ہوگا لیکن کوئین اس لیے نہیں کھائی جاتی کہ کھانے والے کا منہ کڑوا ہو ، ہاں منہ ضرور کڑوا ہوگا مگر بخار بھی اتر جائے گا ۔ اسی طرح ڈاکٹر اس لیے نشتر نہیں لگا تا کہ مریض کو دکھ دے ، بلکہ اس کی یہ غرض ہوتی ہے کہ آرام ہو، لیکن نشتر سے دُکھ پہنچنا ضروری ہے ۔ اسی طرح روزوں کی غرص یہ نہیں کہ تمہیں دکھ دیا جائے لیکن اس میں شک نہیں کہ روزوں سے تکلیف ضرور ہوتی ہے۔ تو کیا وہ شخص دانا ہے۔ جو کونین اس لیے نہ کھاتے کہ وہ کڑوی ہوتی ہے۔ اور اس پھوڑے میں جس نے اس کی زندگی تلخ کر رکھی ہو نشتر نہ لگانے دے کہ اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ کونین سے منہ کڑوا ہوگا۔ اور نشتر سے درد ہو گا۔ مگر نتیجہ اس کا یہ ہو گا کہ تکلیف دور ہو جائیگی ۔ اس طرح روزہ بے شک تکلیف دیتا ہے لیکن یہ نشتر ہے ان ہزاروں پھوڑوں کے دُور کرنے کا جو انسان کی روح میں ہوتے ہیں۔ و شخص جاہل ہے جو بخار سے بھنا جاتا ہے مگر کونین اس لیے کھانے سے انکار کرتا ہے کہ منہ کڑوا ہوتا ہے یا وہ جو نشتر اس لیے نہیں لگوا تا کہ اس سے تکلیف ہوتی ہے۔ حالانکہ ایک ایسا پھوڑا اس کو نکلا ہوا ہے۔ جو اس کے لیے ایک عذاب ہے۔ کوئین کڑوی ہے۔ نشتر تکلیف دہ ہے۔ مگر کیا اتنا جتنا بخار اور وہ خطرناک پھوڑا پھوڑا تو وہ ہے جو اس کو موت کی طرف لے جا رہا ہے۔ اور نشتر وہ ہے جو اس کو زندگی دیتا ہے۔ پس جو روزہ اس لیے نہیں رکھتا کہ تکلیف ہوتی ہے۔ وہ گویا علاج سے بچنا چاہتا ہے ریا وہ جو روزہ اس طر اس طرح رکھتا ہے کہ اپنی زندگی کو ختم کر دے۔ یہ دونوں تفریط اور افراط کی راہ کوا در افراط کی راہ کو اختیار کرتے ہیں۔ اور نادانی کرتے ہیں۔ جو اپنی جان کو ہلاک کرتا ہے ۔ وہ شریعت کا روزہ نہیں رکھتا اور جو بھوک یا پیاس کے ڈر سے روزہ ترک کرتا ہے۔ وہ بھی شریعت کے منشاہ کو پورا نہیں کرتا ۔ اگر بھوک اور پیاس کی تکلیف سے بری ہوتے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہوتے اور پھر اگر روٹی کی ضرورت نہ ہوتی تو وہ صحابہ ہوتے مگر سب کو بھوک لگتی تھی ۔ سب سے اعلیٰ نبیوں کی شجاعت ہے جس کو بھوک سے بچانا چاہتے تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں۔ نبیوں میں سے سب سے بڑانبی محمد رسول اللہ صلی نت