خطبات محمود (جلد 6) — Page 459
۴۵۹ نہیں ملے گا۔ یہ ایک سخت صدمہ ہے۔ مگر اس کا اثر چند روز میں کم ہو جائے گا۔ مگر ایک دوسرے ماں باپ ہیں کہ ان کا بچہ مرا نہیں، بلکہ کھویا گیا ہے۔ تو ان کا صدمہ پہلوں سے زیادہ ہو گا۔ کیونکہ ان کا بچہ مرا نہیں اس کا ان کو علم ہے۔ اس لیے وہ اس کے ملنے کے بھی آرزومند ہیں ، مگر یہ علم ان کے لیے دُکھ اور صدمہ کا موجب ہوتا ہے۔ ایسے ا ہے۔ ایسے لوگ جن کی اولا دم ہو جاتی ہے۔ اور ان کو اس کا علم نہیں ہوتا کہ مرگیا ہے۔ وہ آرزو کیا کرتے ہیں۔ کہ کاش اس سے تو وہ مرجاتا تا اتنا دکھ نہ ہوتا پس ایک چیز کا علم بھی دکھ کا بھی موجب ہوتا ہے۔ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ اگر ایک شخص کو کسی کام کے متعلق علم علم نہ نہ ہوا ہو۔ اور وہ اس میں غلطی کرے ۔ تو وہ اس قدر قابل ملامت نہیں ہوتا جس قدر وہ شخص قابل ملامت ہے۔ جس کو اس و کے متعلق علم ہو مگر باوجود علم کے وہ اسی غلطی کا مرتکب ہو۔ پس روزوں کے متعلق ہماری جماعت کو بہت حد تک بتا دیا گیا ہے۔ گویا اس مسئلہ میں علمی پہلو مکمل ہے ، لیکن جب علم کے ساتھ عملی پہلو بھی مل جائے تو بہت مکمل ہو جاتے گا۔ اگر لوگوں کو روزے کی خوبی معلوم نہ ہو اور وہ نہ رکھیں تو ان کے لیے اتنا صدمہ نہیں ہو سکتا ، مگر جن کو معلوم ہو اور وہ باوجود علم کے نہ رکھیں ان کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے اور وہ دوسروں کے نزدیک بھی زیادہ قابل ملامت ہیں۔ روزوں کا حکم بھوکا رکھنے کے لیے نہیں روزے میں جس قدر خوبیاں ہیں ۔ ان کے بیان کی یہاں حکم گنجائش نہیں ۔ مگر مختصراً جو قرآن نے دو لفظوں میں بتایا ہے یہ ہے کہ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - روزوں کا حکم دینے سے خدا کی یہ غرض نہیں کہ تم بھو کے مرو۔ اور خدا تمہاری بھوک کی حالت کا تماشہ دیکھے۔ اگر یہ غرض ہوتی تو وہ تمہارے لیے کھانے پینے کے اس قدر افراط کے ساتھ سامان کیوں پیدا کرتا۔ اس نے تمہارے کھانے اور پینے کی ہزار ہا چیزیں پیدا کی ہیں۔ پھر روزہ کا حکم دینے سے کیا مد نظر ہے۔ فرمایا کہ روزے کا حکم اس لیے۔ اس لیے ہے تا تم ہلاکت سے بچ جاؤ پس خدا تعالٰی نے روزے اس لیے مقرر فرماتے ہیں تا کہ تم محفوظ ہو جاؤ۔ لیکن باوجود اس کے لوگ سستی کرتے ہیں۔ بعض لوگ تو روزوں کے معاملہ میں افراط کی طرف گئے ہیں۔ اور بعض تفریط کی طرف جو لوگ افراط کی طرف گئے ہیں۔ انہوں نے تو یہاں تک ترقی کی ہے کہ دودھ پیتے بچوں کو بھی رونے سے رکھوا دیتے اور ان کو دودھ نہیں پینے دیا۔ حتی کہ وہ اسی حالت میں مر گئے ۔ ایک دفعہ اخبار میں پڑھا تھا کہ گرمی کے دنوں میں ایک لڑکی کو اس کے والدین نے روزہ رکھوا دیا۔ جب گرمی کی شدت ہوئی تو وہ لڑکی تڑپنے لگی ۔ ماں باپ نے اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ لیے کہ کہیں جا کر پانی نہ پی لے ۔ اور وہ ساتھ ساتھ روتے بھی جاتے۔