خطبات محمود (جلد 6) — Page 458
85 رمضان کے روزے د فرموده ۱۱ارجون له مطابق ۲۳ رمضان ۱۳۳۵مه) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد آیت شریفہ بايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا حُتِبَ عَلَيْكُمُ العِيامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقره (۱۳) تلاوت کر کے فرمایا ہر روزوں کی فلاسفی اور ان کی غرض اور ان کے فرض کئے جانے کے اسباب و فوائد کے متعلق بہت دفعہ ہماری جماعت کو بتایا جاتا رہا ہے۔اور یہ ایسا مسئلہ ہے کہ علمی طور پر اس مسئلہ کے متعلق بھی کچھ اور زیادہ بتانے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ علمی طور پر روزے کی اہمیت اور اس کی فلاسفی اور اس کے فوائد پر جماعت میں ہمیشہ سے روشنی ڈالی جاتی رہی ہے۔مگر کسی مسئلہ کا علمی طور پر کامل ہونا کسی جماعت کے لیے کافی نہیں ہوتا جب تک عملی طور پر بھی اس میں کمال حاصل نہ کرے۔کیونکہ اگر علم کے ساتھ عمل نہ ہو تو علم فائدہ مند نہیں ہو سکتا۔بلکہ بسا اوقات ایسا علم حسرت و اندوہ کا موجب ہوتا ہے۔ایسا آدمی جس کوکوئی بھاری لاحق ہوجاے اور اس کے متعلق عام یہ خیال ہو کہ اس کا کوئی علاج نہیں۔مثلاً کوڑھ کا مرض ہے۔اب تک اس بیماری کا یقینی علاج دریافت نہیں ہوا۔اور جس شخص کو حقیقی طور پر یہ مرض ہو جائے وہ اچھا نہیں ہوا۔اس شخص کو صدمہ ہوتا ہے۔مگر پھر بھی وہ میسر کرتا ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ جس مرض میں مبتلا ہے وہ لاعلاج ہے۔لیکن برخلاف ازیں ایک دوسرا شخص جو ایک ایسے مرض میں مبتلا ہو جس کا علاج ہے۔مگر کسی نہ کسی وجہ سے وہ اس علاج سے محروم رہتا ہے۔اس کو اس محرومی کا جو صدمہ اور اندوہ ہوگا وہ پہلے شخص سے کہیں زیادہ ہوگا۔مثلاً کسی ماں باپ کا کوئی بچہ مر جاتے ان کو صدمہ ہوتا ہے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ اب ہمیں نہیں ملے گا۔وہ ہمیشہ کے لیے اس کو اپنے سے جد سمجھتے ہیں۔سوائے مومنین کے جو آئندہ ملنے کی توقع رکھتے ہیں، لیکن عام طور پر لوگوں کی فطرت یہی ہوتی ہے کہ وہ بچے کے متعلق کہیں سمجھتے ہیں۔کہ یہ اب نہیں