خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 458

۴۵۸ 85 رمضان کے روزے ( ٠١٣٣٨ د فرموده ارجون له مطابق ۲۳ رمضان ۱۳۳۵مه) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد آیت شریفہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ العِيامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة (٢) تلاوت کر کے فرمایا : روزوں کی فلاسفی اور ان کی مغرض اور ان کے فرض کئے جانے کے اسباب و فوائد کے متعلق بہت دفعہ ہماری جماعت کو بتایا جاتا رہا ہے۔ اور یہ ایسا مسئلہ ہے کہ علمی طور پر اس مسئلہ کے متعلق بھی کچھ اور زیادہ جاتا رہا یہ ایسا ہے علمی پراس اور بتانے کی ضرورت نہیں ۔ کیونکہ علمی طور پر روزے کی اہمیت اور اس کی فلاسفی اور اس کے فوائد پر جماعت میں ہمیشہ سے روشنی ڈالی جاتی رہی ہے۔ مگر کسی مسئلہ کا علمی طور پر کامل ہونا کی جماعت کے لیے کافی نہیں ہوتا جب تک عملی طور پر بھی اس میں کمال حاصل نہ کرے۔ کیونکہ اگر علم کے ساتھ عمل نہ ہو تو علم فائدہ مند نہیں طورپر حا نہ اکرام کے ساتھ علم نہ ہو تو ہم فائدہ مند ہیں ہو سکتا۔ کے بلکہ بسا اوقات ایسا علم حسرت و اندوہ کا موجب ہوتا ہے۔ ایسا آدمی جس کو کوئی بیماری لاحق ہو جات اور اس کے متعلق عام یہ خیال ہو کہ اس کا کوئی علاج نہیں۔ مثلاً کوڑھ کا مرض ہے۔ اب تک اس بیماری کا یقینی علاج دریافت نہیں ہوا ۔ اور جس شخص کو حقیقی طور پر یہ مرض ہو جاتے وہ اچھا نہیں ہوا۔ اس شخص کو صدمہ ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی وہ صبر کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے۔ کہ وہ جس مرض میں مبتلا ہے وہ لا علاج ہے۔ لیکن بر خلاف انہیں ایک دوسرا شخص جو ایک ایسے مرض میں مبتلا ہو جس کا علاج ہے مگر کسی نرکسی رجہ سے وہ اس علاج سے محروم رہتا ہے ۔ اس کو اس محرومی کا جو صدمہ اور اندوہ ہو گا وہ پہلے شخص سے کہیں زیادہ ہوگا۔ مثلاً کسی ماں باپ کا کوئی بچہ مر جاتے ان کو صدمہ ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ اب ہمیں نہیں ملے گا۔ وہ ہمیشہ کے لیے اس کو اپنے سے جدا سمجھتے ہیں ۔ سوائے مومنین کے جو ائندہ ملنے کی توقع رکھتے ہیں، لیکن عام طور پر لوگوں کی فطرت یہی ہوتی ہے کہ وہ بچے کے متعلق سی سمجھتے ہیں۔ کہ یہ اب نہیں