خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 456

۴۵۶ بدلہ میں اسلام کو قربان کرنے سے نہیں بچتا۔ یا کہتا ہے فلاں چیز میرا حق تھی میری بجائے فلاں کو مل گئی ۔ فلاں جھگڑے میں فلاں کی مد کی گئی میری طرفداری نہ کی گئی ۔ مسلمانوں کی سیاست اس طرح مٹی سلطنت عباسیہ اس طرح تباہ ہوئی ۔ بادشاہ کو پتہ بھی نہ ہوتا کہ وزراء کی آپس میں تلواریں چل جاتیں۔ ایک کہتا فلاں عہدہ میرا حقی ہے۔ دوسرا کہتا میرا۔ ایک دوسرے پر فتح پاتا اور خوش ہوتا ہوتا، لیکن وہ نہیں سمجھتا تھا کہ میری فتح میری آئیندہ نسلوں کے لیے غلامی ثابت ہوگی۔ اور میری اولاد فتح دشمنوں کی غلام ہو کر رہے گی۔ چنانچہ ان خانہ جنگیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنتیں تباہ ہو گئیں لیے اب ان فاتحوں ہیں کی اولاد غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ وہ لوگ وزارت کے لیے لڑتے اور حکومتوں اور عزتوں کے لیے ایک دوسرے- سے نبرد آزما ہوتے تھے جس کا نتیجہ اسلامی حکومتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ۔ تم میں سے بہت ہونگے جو ان وزراء کو بے وقوف کہیں گے۔ مگر در حقیقت وہ لوگ جو گورنریوں اور ملک کے بڑے بڑے عہدوں کے لیے لڑتے تھے اتنے بے وقوف نہ تھے۔ جتنے وہ لوگ ہیں جو چار چار پیسوں پر ایسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں جن سے اتحاد ٹوٹ جائیے۔ مثلاً کہتے ہیں کہ ۳۹ روپیہ کی بجائے ۳۸ روپیہ کیوں دیئے گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی اس قسم کی باتیں اسلام کی ترقی کو مدتوں پیچھے ڈال دیتی ہیں۔ وہ یہ نہیں خیال کرتے کہ وہ اسلامی عمارت وہ یہ نہیں کی ایک اینٹ ہیں۔ اگر وہ گرینگے تو تمام عمارت پر اس کا اثر پڑے گا پس ایسے لوگ اسلام کی تباہی کے موجب ہوتے ہیں۔ اور اسلام کو ضعف جب آئے گا۔ تو خود وہ بھی تباہی سے نہیں بیچ سکتے۔ پس وزراء عباسیہ نے اگر لڑائیاں کیں ۔ توحکومت کے لیے کیں۔ مگر میاں تو کوئی حکومت نہیں۔ پھر لڑائی ہو تو کیوں؟ اگر ہو تو کیادہ اچھے نتیجے پیدا کرے گی۔ اگر وہ لوگ ایسا نہ کرتے ۔ تو مسلمانوں کو جو دن آج دیکھنا پڑا۔ نہ دیکھنا پڑتا ۔ 4 پس جماعت کی ترقی اتحاد سے ہوتی اور اتحاد قائم رہتا ہے ۔ اپنی قربانیاں کرنے سے۔ اگر کوئی قربانی کرے تو جماعت کا اتحاد قائم رہے گا اور جماعت کی برکت سے اس کے بھی بہت سے کام عمدہ شکل میں انجام پائینگے لیکن اگر یہ قربانی نہیں کریگا۔ تو جماعت پر اس کا اثر پڑے گا۔ اور پھر اس کا اثر اس کی ذات پر بھی پڑے گا۔ جماعت کی عزت بڑھے گی۔ اس کی عزت میں بھی ترقی ہوگی۔ اور وہ عزت اور نفع جو جماعت کے ذریعہ حاصل ہو۔ بہت پائیدار عزت اور دیر پا نفع ہو گا۔ جو لوگ اس گر کو سمجھتے ہیں۔ وہ ذاتی منافع کو نہایت خوشی سے جماعت کے فوائد پر قربان کر دیتے ہیں ۔ مومن جو خدا کے لیے قربانی کرتا ہے۔ خدا اس کو اه تاریخ اسلام ، معین الدین ندوی حصہ سوم حالات خلافت عباسیہ