خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 453

۴۵۳ کہ ہم بہت ہیں۔ اس لیے ہمارے لیے کیا خوف ، مگر وہ یا د رکھیں کہ مسلمان ان که مسلمان ان سے بہت زیادہ تھے جب خوف ان کو نہ رہا۔ تو ان کا اتحاد مٹ گیا۔ صحابہ میں بھی لڑائیاں ہوتی تھیں۔ مگر ان کو خوف تھا ۔ اس لیے باوجود سخت لڑائیوں کے ان میں اتحاد رہا۔ حضرت علی اور معاویہ کی جنگ ہوئی۔ مسلمانوں کو لڑتے دیکھ کر قیصر نے چاہا کہ ان کا خاتمہ کر دے ۔ ایک پادری نے ایک مثال دیگر اس کو اس خیال سے باز رکھا۔ اس نے کہا کہ دو گھتے لو اور ان کو بھو کے رکھو۔ چنانچہ ایسا کیا گیا اور پھر انکے آگے گوشت ڈالا۔ اور وہ لڑنے لگے، لیکن پھر ایک شیر لایا گیا ۔ تو وہ اپنی لڑائی بھول گئے۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں کی مثال کتوں " کی سی ہے ۔ آپس میں لڑتے ہیں لیکن جب غیرحملہ آور ہوگا تومل جائیں گے یہ مثال گو گندی ہے لیکن بات سچی ہے کہ خوف کے وقت اختلاف مٹ جاتا ہے اور یوں کہا جا سکتا ہے کہ خوف کے وقت کہتے تک متحد ہو جاتے ہیں۔ قیصر نے پادری کی بات نہ مانی۔ امیر معاویہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ قیصر کو معلوم ہوا کہ وہ ہماری لڑائی پر نہ جائے۔ اگر اس نے علی پر حملہ کیا۔ تو علینہ کی طرف سے پہلا جرنیل جو اسکے مقابلہ میں ہو گا وہ معاویہ ہو گا یہ یہ لوگ مسلمان تھے اس ہو سکتا ۔ کامل ; لیے ان باتوں کو جانتے تھے پس خواہ کوئی کتنا ہی ترقی پاتے وہ خوف سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ محفوظ ذات صرف خدا کی ہے جس کے لیے کوئی اور کبھی خوف نہیں ، لیکن انسان کے لیے خوف ہے پس کبھی نہ مجھو کہ تم کامل امن میں ہو تم میں اتحاد رہے گا۔ کیا معلوم ہے کہ تم امن سمجھ کر لڑنے لگو۔ اور کل یہ خوف مٹ جاتے۔ باقی آئندہ انشاء اللہ بیان ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آئین : الفضل ، ارجون نشته ) مجمع بحار الانوار جلد اصلا