خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 452

۴۵۲ عیسائیت کہتی ہے کہ ایک گال پر طمانچہ لگے تو دوسری آگے کر دو جب لوگ ریل پر ہوں، اگر کی کو چوٹ آتی ہے تو وہ غفتہ کی بجائے مسکرا دیتا ہے مگر اسلام ایسی گھراہٹ کا مذہب نہیں ۔ بلکہ اسلام کی مثال تو ایسی ہی ہے کہ جب انسان اپنے منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے اور اگر وہاں کوئی شخص اس کو مارے تو اس کا بدلہ بھی لیتا ہے۔ اور اس وقت اس کی نظر اپنے حقوق پر بھی پڑتی ہے ۔ پس تو خوف ایک ایسی ؟ چیز ہے کہ اتفاق کا باعث ہو جاتی ہے۔ قرآن قرآن کریم کریم کہتا۔ کہتا ہے کہ جب تک شف رہے گا مسلمانوں میں جنگ و جدال اسی وقت ہوتے جب ان سے خوف دور ہو گیا۔ جب انہوں نے نادانی سے سمجھ لیا کہ اب ہمارے لیے خوف نہیں ۔ اسی وقت آپس کے جنگ و جدال نے ان کو تباہ کرنا شروع کردیا اور غیروں نے ان کو پامال کر ڈالا۔ اور جن کو وہ اپنے نیچے دبائے ہوتے تھے۔ جب ان سے۔ جب ان سے بے خوف ہوتے اسی وقت وہ مشک کی طرح نکل کر او پر آگئے۔ اور یہ نیچے غوطے کھانے لگے ۔ مسلمانوں نے خیال کیا کہ جب ہم نے ان کو فتح کر لیا ہے پھر ہمیں کیا خوف ۔ انھوں نے قریباً تمام دنیا کو فتح کر لیا تھا اور تمام دنیا کو اپنے ماتحت خیال کرتے تھے۔ مگر جب انہوں نے خیال کیا کہ اب کیا خطرے کی بات ہے ۔ اسی وقت ان کے لیے خطرات پیدا ہو گئے تھے ۔ ممکن ہے کہ بعض کو خیال آتے کہ یہ بات لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ۔ کے خلاف ہے اگر خوف کے مٹنے اور خوف کے نہ ہونے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ کسی کو خوف نہ ہونا اور چیز ہے اور اس کے لیے خوف کا مٹ جانا اور چیز ہے ۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کہا جائے کہ فلاں شخص بیمار نہیں۔ یہ ایک اور بات ہے۔ اور اگر یہ کہا جاتے کہ یہ یار ہوگا ھی نہیں تو یہ اور بات ہے۔ پس اسی طرح یہ کہنا کہ اس کو اس وقت خوف نہیں ہے۔ یہ اور بات ہے اور یہ کہ کہنا کہ اس کے لیے آئندہ بھی کوئی خوف نہیں۔ یہ بالکل اور بات ہے۔ پس مومن بھی نڈر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اگر میں ذرا بھی غافل ہوا۔ تو میرے دشمن اگر ہوا۔ یہ میری گھات میں ہیں جب اس کو خوف ہوگا۔ تو اتفاق اتحاد بھی قائم رہے گا مومن خوف سے پاک ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ اس کو یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ اگر میں غافل ہوا۔ تو شیطان نے مجھ پر قبضہ کیا۔ لیکن اس کے ساتھ اس کو ہو بھی ہوتا ہے کیا ہوتا ہے کیا مومن ایک لحاظ سے بے خوف ہے دوسرے لحاظ سے اس کو ہر وقت ڈر رہتا ہے ۔ جیسا کہ فرمایا۔ یدعون رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا ۔ پس جب لوگ خوف محسوس کرینگے۔ تو آپس میں متحد بھی رہیں گے ۔ اگر خون کو محسوس کریں تو پھر لڑا تیاں بھی نہر ہیں ۔ آج سے دس برس پہلے احمدیوں میں جو اتفاق و اتحاد تھا۔ اس میں آج کی ہے انہوں نے خیال کر لیا لیا