خطبات محمود (جلد 6) — Page 450
۴۵۰ 83 اعتصام بحبل الله اتحاد کیلئے خوف بھی ہونا چاہیئے دفرموده ۲۱ رمتی ۱۹۲۰ته (14: ( تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ اور آیت شریفہ تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا (السجدة 144) کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- اس کے بعد میں اس مضمون کی طرف توجہ کرتا ہوں۔جو پہلے سے چلا آرہا ہے۔اور وہ مضمون اتحاد واتفاق ہے۔میں نے پچھلے جمعہ بیان کیا تھا کہ اتحاد کے قیام کے لیے دیہ بات یاد رکھنی چاہیتے کہ میں جب بھی اتحاد و اتفاق کے لفظ بولوں۔اس سے مراد ہی اعتصام بحبل اللہ ہے لیکن چونکہ اس مطلب کے لیے ماری زبان میں اتفاق و اتحاد کے لفظ مستعمل ہیں۔اس لیے وہی بولے جائیں گے ، سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ اختلاف کا دنیا میں رہنا ضروری ہے۔جب تک یہ تسلیم کیا جائے اتفاقی واتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔سب سے بڑی روک اتحاد و اتفاق کے پیدا ہونے میں یہ ہے کہ لوگ اختلاف کا وجود مٹانا چاہتے ہیں، لیکن اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اتفاق و اتحاد کومٹانا چاہتے ہیں نہیں پلاگر جو اتفاق واتحاد کے قیام کے لیے قرآن کریم تعلیم کرتا ہے۔یہ ہے کرتسلیم کر لیا جائے کہ اختلاف دنیا سے مٹ نہیں سکتا۔بلکہ اس کا وجود ضروری ہے۔اگر لوگ اس کو تسلیم کر لیں۔تو توے فیصدی اختلاف کی باتیں مٹ سکتی ہیں۔اس کے بعد میں ایک اور عظیم الشان گرد بیان کرتا ہوں جسکے نہ سمجھنے کی وجہ سے بھی اختلاف پڑتا ہے اور وہ خوف کا مٹ جانا ہے جس طرح اختلاف کے مٹنے اور مٹانے سے اختلاف ہوتا ہے۔اسی طرح خوف کے مٹنے سے بھی اختلاف ہوتا ہے۔جب بھی اور جن لوگوں نے خوف کو مٹا دیا۔اسی وقت انہی میں اختلاف پیدا ہو گیا۔دنیا جن قوانین کے ماتحت چل رہی ہے۔وہ بتلاتے ہیں کہ دنیا سے جب بھی خوف مفقود ہوگا۔اتحاد و اتفاق بھی مفقود ہو جائے گا۔جب تک خوف ہے۔اتفاق ہے جہاں خوف نہیں