خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 445

الولدي باتیں رکھتی ہو جن میں سے ہر ایک کو کپڑنا چاہیئے تواس کی مختلف حالت ہے یہ محض نام کا بھی ایک اثر ہوتا ہے مثلاً ہندوستانی ہندوستانی ہونے کی وجہ سے جتھا کرتے ہیں۔ انگریز انگریز ہونے کی وجہ سے یہ بھی اشتراک کہلاتا اور یہ ایک فطری امر ہے۔ جو کسی تعلیم کا نتیجہ نہیں۔ بلکہ فطرت کا وہی قاعدہ یہاں کام کرتا ہے جوئیں اوپر ہے۔ اور یہا بیان کر آیا ہوں ، لیکن جب تعلیم کا سوال ہو۔ تو صرف یہ کہ دینا ہی کافی نہیں ہوتا ۔ بلکہ اس پر عامل اور اس کا پابند ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر چہ تعلیم کے متعلق بھی یہ بات ہوتی ہے ۔ مثلاً جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم قرآن کو مانتے ہیں۔ ان میں بھی ایک جتھا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر دیکھ لو جب لوگ گاڑی میں چڑھتے ہیں ۔ تو مسلمان مسلمانوں سے مانوس ہونگے ۔ اور ہندو ہندوؤں سے۔ اس معاملہ میں اتحاد نظر آجاتا ہے لیکن جبل اللہ کے پکڑنے میں ایک دوسرا اشارہ یہ ہے کہ اس میں ایسی تعلیمات ہیں جو اتحاد کی طرف ہیں۔ سوت کے رہتے کو کپڑنا صرف ظاہری اتحاد کی طرف متوجہ کرتا ہے، لیکن قرآن کا پکڑنا باطنی راجع حالت کو بھی درست بنانے کی ضرورت جتاتا ہے۔ دوسرامیم آب میں اس تفصیل کی طرف توجہ کرتا ہوں کہ باطنی اتحاد کے لیے کونسی تعلیمات ہیں جن کے ذریعہ قرآن کریم اتفاق پیدا کرتا ہے ۔ پہلا اتفاق نام کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسرا تعلیم کے ذریعہ اس حصہ مضمون کے بیان کرنے سے پہلے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ ہر ایک مشکل کے حل کے لیے دو طرح غور کیا جاتا ہے ۔ اول اس طرح کہ جس چیز کے باعث نقص : نقص پیدا ہوا اور وہ سی امر میں روک ہو۔ اس کو دور کر دیا جائے تاکہ وہ روک رستہ میں حائل ہی نہ ہو ۔ لیکن یہ علاج کل یہ علاج مکمل علاج نہیں ۔ بلکہ مکمل اس وقت ہو گا کہ اگر یہ بھی معلوم کر لیا جائے کہ اگر وہ نقص پیدا ہو جائے ۔ تو اس کو کس طرح دور کیا جائے اس حقہ کے ملنے کے ساتھ علاج مکمل ہوتا ہے صحت انسانی ہی سے متعلق اگر ہم کیا دیکھیں تو ہم اس طب دیکھیں۔ کو مکمل نہیں کہیں گے جو صرف بیماری کے آنے سے بچاتے ۔ بلکہ طب کامل وہی ہوگی۔ جو یہ بھی بتائے کہ جب بیماری پیدا ہو جاتے۔ تو اس کے دفع کرنے کا یہ طریق ہے ۔ اسی طرح اتحاد کے متعلق بھی انہی باتوں کی ضرورت ہے ۔ اول تو یہ کہ ایسے طریق ہوں۔ جن پر چل کر اتحاد و اتفاق پیدا ہو، لیکن اگر نا اتفاقی پیدا ہو جاتے۔ تو اس کو دور کرنے کے لیے فلاں فلاں طریق ہیں ۔ جب یہ دونوں حصے ہوں تو پھر اعلیٰ درجہ کی تعلیم؟ جہ کی تعلیم ہوگی۔ ہم دنیا میں غور کرتے ہیں کہ نام میں جمع ہونے کے لیے کسی خاص کتاب کے ماننے والوں کی تخصیص نہیں بلکہ ہر ایک شخص جو ایک کتاب کو ماننے والا ہے ۔ وہ دوسرے کے ساتھ جو اس کتاب کو ماننے کا دعوی کرتا ہے۔ ایک حد تک متفق ہوگا ۔ اسمیں قرآن کریم کی تخصیص نہیں۔ قرآن کو ماننے والے آپس میں