خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 431

ہے کیونکہ اس سے ان کی ذات کی بجائے اسلام اعتراضات کا نشانہ بنتا ہے، لیکن جو شخص دو شادیاں اس لیے کرتا ہے کہ مسلمان بڑھیں اور انسانی نسل کی ترقی ہو۔اور لوں کے ساتھ مساوی سلوک کرتا ہے۔وہ اسلام پر اعتراض کا موجب نہیں بنتا، بلکہ اسلام پر سے اعتراض کو دور کرتا ہے۔یہ بات تھی جو میں نے بیان کی۔لیکن جونی ک میری تقریریں دو بیویوں کا ذکر آیا اور خیال کریگا کہ یہ دو بیویوں کے کرنے کے متعلق ہی کہ رہے ہیں۔باقی جس قدر بات میں نے بیان کی۔اس پر توجہ نہ کی گئی۔اور ایک ادھورا فقرہ منکر فیصلہ کرلیا گیا کہ مطلب ہی ہوگا۔حالانکہ جب تک کسی بات پر پورا غور نہ کیا جائے۔اس کے تمام پہلو سمجھ میں نہیں آسکتے۔اور نہ ناقص غور کے ذریعہ علوم ترقی کر سکتے ہیں۔آج کل یہ کمال خیال کیا جاتا ہے کہ جب کوئی بات کر رہا ہو تو فوراً درمیان میں بول پڑیں جس سے ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے۔کہ ہم خو سمجھتے ہیں۔اور گویا ان لوگوں کی علمیت ظاہر ہوتی ہے۔مباحثوں اور مناظروں میں علامہ ایسا کرتے ہیں۔اس سے غرض مخالف پر رعب ڈالنا ہوتی ہے، لیکن ہر جگہ یہ بات درست نہیں ہوئی ایک دفعہ حضرت میں موعود اپنا ایک الہام سن کر کہنے لگے کہ خدا اور بندے کے کلام میں کیا فرق ہوتا ہے۔اور اس کے لیے آپ نے ایک حریری کا فقرہ پڑھا۔ایک صاحب فوراً درمیان میں بول پڑے۔اور انھوں نے پہلی بات پر تو غور نہ کیا۔اور اس فقرے کو الہام سمجھ کر کہنے لگے واقعی کیسی عمدہ عبارت ہے اور کیا فصات وبلاغت ہے، لیکن جب حضرت صاحب نے فرمایا :- آپ نہیں تو سی اور پھر آپ نے اس میں نقص بتلاتے اور الہام کی اس پر فضیلت ثابت کی۔غرض یہ طریق ہو گیا ہے کہ پورا کلام سنے بغیر لوگ نتیجہ نکالتے ہیں۔اسی طریق سے اسی سلسلہ مضمون کی تمہید کے عنوان میں غلطی کی گئی۔حالانکہ میری مراد یہ بتانا تھی کہ لوگ بعض فقرے کہتے ہیں۔مگر انہیں سمجھتے نہیں۔کہتے ہیں۔اتحاد کرو لیکن نہیں سمجھتے کہ کیوں کرو کیوں نہ کرو۔اتحاد کرنے کے کیا فوائد ہیں۔اور نہ اتحاد کرنے کے کیا نقصانات ، یا یہ کہ غیبت نہ کرو کیوں نہ کرو۔اس کے کیا نقصانات ہیں : او راس سے بچنے کے کیا ذرائع ہیں۔یا یہ کہ جھوٹ نہ بولو۔کیوں نہ بولو۔اس کے کیا نقصانات ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔مومن کے لیے تعلیم نہیں۔کہ وہ کسی بات کی سطح پر رہے۔بلکہ اس کو حکم ہے کہ وہ ہر بات کی نہ میں داخل ہو جاتے۔مگر افسوس ! بجاتے اس کے کہ اکثر لوگ بات کی تہہ میں جائیں۔وقت سے پہلے ہی نتیجہ نکلنا شروع کر دیتے ہیں۔آج میں بجائے اس کے کہ اصل وہ مضمون شروع کروں، اس نصیحت کو دہراتا ہوں کہ ہر ایک بات پر پورا پورا غور کرنا اور توجہ سے سننا چاہیئے اور بغیر ساری بات سے نتیجہ نہیں نکالنا چاہیئے۔نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مومن وہی نہیں ہوتا جو جمیع صفات کا مکمل طور پر جامع ہو۔بلکہ مومن وہ بھی