خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 429

۴۲۹ گے ۔ اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ تم میرے خلاف کیوں کہتے ہو ۔ ایک شخص پاس سے گزرا۔ اور لڑائی کا سبب پوچھا۔ تو ایک نے کہا کہ میں فلاں کتے کا ذکر کر رہا تھا۔ دوسرے نے کہا کہ میں فلاں گویئے کا ذکر رہا تھا۔ غرض ہر ایک نے کسی دوسری ہی چیز کا نام لیا۔ تو ان چاروں نے ایک دوسرے کے طرف سے اپنے اپنے خیال کے مطابق نتیجہ اخذ کر کے فیصلہ کر لیا کہ فلاں کے متعلق کیا گیا ہے ۔ اور ساری خرابی اپنی بات سے پیدا ہوئی کہ مکمل بات سنے بغیر یونہی فیصلہ کر لیا تھا ۔ تو ایک آدھ بات ٹینکر کہ دیا جاتا ہے کہ ساری بات یہ ہوگی۔ دنیا کی کوئی کتاب پڑھو۔ اس میں تمام باتیں ایسی نہ ہونگی ۔ جو تمہیں پیشتر سے معلوم نہ ہوں، بہت سی پہلے معلوم اسی پہلے معلوم ہونگی ۔ قرآن کریم ہی کو دیکھ لو اس میں بہت سی باتیں ایسی ہونگی جو پہلے سے معلوم ہونگی، لیکن جو لوگ ان معلومہ بانوں کی وجہ سے فیصلہ کر لیتے ہی کہ ہم نے سمجھ لیا۔ وہ علوم سے محروم رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ علوم کے حاصل کرنے اور بڑھانے میں توجہ کا بہت بڑا دخل ہے ۔ جب ایک شخص کسی بات کے متعلق کہتا ہے کہ میں اسے جانتا ہوں۔ تو اس کی توجہ اس سے ہوٹ جاتی ہے اور وہ ایک علم کی حقیقت اور خوبی سے نا واقف رہتا ہے، لیکن جو غور کرتا اور توجہ قائم رکھتا اور اسلوب بیان کو جانچتا اور بات کی شہ میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا علم دوسرے شخص کی نسبت بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس کے لیے ایک اور مثال یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی خاص شخص کی تلاش میں نکلے تو دور سے کسی اور ہی شخص کو وہ خیال کر کے پکارے گا ۔ اور پاس جا کر غلطی سے آگاہ ہوگا ، لیکن اگر اس سے ملنے کی ضرورت نہ ہو ۔ تو خواہ وہ پاس سے گزر جائے تو بھی اس کی طرف توجہ نہیں ہوگی۔ پس جو لوگ باتوں پر غور کرتے ہیں۔ وہ ان میں جدت پاتے اور ترقی کرتے ہیں۔ مگر جو ہر ایک بات کو جانی ہوئی سمجھتے ہیں۔ وہ غور نہیں کر سکتے۔ اس لیے علوم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی نقص ہے ۔ جو تمام علوم کے حصول میں مائل ہو جاتا ہے۔ جو لوگ اس نقص کو دور کر دیتے ہیں ۔ وہ علوم حاصل کر لیتے ہیں ۔ اسی نقص کے نہ ہونے کے اعث محمد صلی الہ علیہ وسلم محمدصلی اللہ علیہ سلم اور ابوبکر ابوبکر رضی اللہ عنہ ہو گئے ۔ اور اس کے ہونے سے ابو جبل ، ابو جہل ہو گیا۔ ایک ہی باتیں ہوتی ہیں کہ ایک شخص غور کر کے علوم کے نئے نئے رستے نکال لیتا اور بڑے بلند مقام پر پہنچ جاتا ہے مگر دوسرا اس گھر کو چھوڑ کر گر جاتا اور علوم سے محروم رہ جاتا ہے۔ دیکھو ابوبکر اس گھر پر عمل کر کے ایک بات منکر ابوبکرہ ہو جاتا ہے، لیکن ابو جہل اس گھر کو چھوڑ کر اسی بات کو سنکر ابوجبل ہو جاتا ہے۔ ہے ۔ میں قرآن کریم ہے جس کے متعلق مسیح موعود فرماتے ہیں کہ تمام روحانی علوم کا مجموعہ ہے مگر بر خلاف اس کے آج کل کے مولوی کہتے ہیں کہ جو باتیں پہلے کہہ گئے۔ ان سے زیادہ اس میں کچھ نہیں۔ اگر کوئی معرفت کی اور