خطبات محمود (جلد 6) — Page 428
۴۲۸ 79 کسی بات نتیجہ نکالنے سے قبل اس پر کافی غور کرنا چاہیئے ) فرموده ۱۶ را پریل شاه) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے پچھلے جمعہ سے پہلے جمعہ ایک خاص امر کی طرف جماعت کو توجہ دلانے کے لیے بعض تمہیدی باتیں بیان کی تھیں ۔ جو کچھ اس دن بیان کیا تھا ۔ اس سے آئندہ مضمون کا نتیجہ نکالنا مشکل امر تھا میگر خطیبہ نویس کی بے توجہی کی وجہ سے یا کسی اور باعث سے پیشیر اس کے کہ میں بیان کروں کہ وہ کونسا مضمون تھا ۔ اس خطبہ کا عنوان تعلق باللہ لکھ دیا گیا۔ گودین کی ہر ایک بات بہر حال تعلق باللہ میں داخل ہو جاتی ہے، لیکن اس تمہید کا بلا واسطہ طور پر تعلق باللہ سے تعلق نہ تھا۔ اس سے مجھے خیال ہوا کہ ممکن ہے کہ اسی رنگ میں اور لوگوں نے بھی غلط نتیجہ نکالا ہو۔ اس لیے میں اس کی اصلاح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں ۔ جب تک بات پر غور نہ کیا جائے۔ اس کا سمجھنا مشکل ہوتا ہے ۔ اور اسی سے ٹھوکر لگتی ہے ۔ اور اسی ٹھوکر کے باعث علمی کمزوریاں رہ جاتی ہیں۔ عام طور پر اسکو علم سمجھا جاتا ہے کہ کمل اور پوری بات نے بغیر نتیجہ نکال لیا جائے۔ چونکہ وہ خیال کر لیتے ہیں کہ ہر ایک بات ابتداء سے انتہا تک نئی نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ ساری بات سنے بغیر ہی نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ علوم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ میں نے اس تمہید میں اسی بات پر زور دیا تھا۔ کہ جب بات سنو تو غور سے سنو۔ اور پوری سنو - پھر نتیجہ نکالو ثل مشہور ہے ۔ کسی جگہ چند آدمی تھے ۔ ایک شخص نے بغیر کسی کا نام لیے کہا۔ وہ تو جس وقت پہرے کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ بہت خوبصورت معلوم ہوتا ہے۔ دوسرے نے کہا یہ تو معلوم نہیں ۔ ہاں گم شدہ چیز کو خوب تلاش کر لاتا ہے۔ تیسرے نے کہا ۔ یہ تو میں جانتا نہیں ۔ ہاں یہ جانتا ہوں وہ گا تا اچھا ہے چوتھے نے بھی اسی قسم کی کوئی بات کہی ۔ آخر چاروں ایک دوسرے سے لڑنے تم