خطبات محمود (جلد 6) — Page 414
۴۱۴ طرح یہ اب تک موجود ہیں۔ اب اسی مسئلہ ارتقاء کے ماتحت یہ بات معلوم ہوتی کہ پہلے یہ سورج محض ہوا تھا ۔ لاکھوں کروڑوں سال کے بعد ہوا کے ذرات مل مل کر سورج کا وجود تیار ہوا۔ پھر پہلے یہ خیال تھا کہ صرف یسی ایک سورج ہے، لیکن اب دور بینوں کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ اور بہت سے ستارے ہیں۔ جو اس وقت بن رہے ہیں۔ اور ان کا مادہ سیال ہے۔ جو گاڑھا ہو رہا ہے اور اس کی شکل ایسی ہے جیسے دھنیا روئی دھنکتا ہے کہ کہیں سے موٹی ہوتی ہے اور کہیں تیلی ۔ ۔۔ غرض اس سے علوم پیدا ہوتے اور ہو رہے ہیں ، مگر اس وقت یہ بحث نہیں کہ ان علوم میں صحت کہاں تک ہے اور غلطی کہاں تک ۔ مگر بہر حال علوم میں تغیرات ہو رہے ہیں ۔ یہی حال تاریخ کا ہے کہ پہلے جن باتوں کو صحیح مانا جاتا تھا۔ ان میں سے بعض کی تغلیط ہو گئی ۔ اور جن کو غلط کہا جاتا ہے ان میں سے بعض کی صحت ظاہر ہو گئی۔ در حقیقت تمام باتوں کا یہی حال ہے ۔ ہم اسلام کو دیکھتے ہیں کہ اس کے تمام عملی حصہ کی بنیاد بھی ایک فقرے پر ہے اور وہ یہ کہ وسطی طریق کو اختیار کیا جائے ۔ دونوں انتہائی طریقوں سے محفوظ ہو۔ جتنے احکام شریعت ہیں ان میں وسطی طریق اختیار کیا گیا ہے۔ یہ جائز نہیں کہ انسان خود کوئی طریق ایجاد کرے ۔ بلکہ شریعت نے اس کے سامنے جو اعمال پیش کئے ہیں ۔ وہ سب وسطی ہیں اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے کہ احکام شریعت میں سے وسطی نکالے۔ غلطی ہوگی ۔ کیونکہ شریعت کے احکام سب کے سب پہلے ہی وسطی طریق پر قائم کئے گئے ہیں۔ جو شخص ان احکام میں بھی وسط کی تلاش کرتا ہے ماتم تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ بعض کمالات کے درجے چھوڑتا ہے ۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ فرائض تو پڑھ لیے سنتوں کی کیا ضرورت ہے ۔ یا نوافل کی کچھ حاجت نہیں ۔ محض فرائض کافی ہیں۔ تو اس کا نام وسطی طریقی نہیں۔ بلکہ یہ نیچے کا طریق ہے۔ شریعت نے جس وقت نماز پڑھنا بتایا ہے اور جتنی رکعتیں بتائی ہیں۔ وہ وسط ہی ہے۔ اسلام نے بتایا ہے کہ سال میں زیادہ سے زیادہ چھ مہینہ کے ایک انسان روز رکھ سکتا ہے یہ طریق وسطی ہے۔ اگر کوئی ان سے زیادہ رکھے یا مہینہ بھر کے جو فرض ہیں ان میں کمی کرے تو وسطی طریق کو چھوڑتا ہے۔ اگر کوئی پانچ نمازوں کی بجائے تین پڑھے۔ تو وہ بھی وسطی طریق سے نکل جاتا ہے پھر صدقہ و خیرات ہے۔ انسان صدقہ و خیرات کر سکتا ہے۔ وہاں تک جہاں تک ان لوگوں کے حقوق نہ تلف ہوتے ہوں ۔ جو کہ اس کے ذمہ ہیں۔ ایسی صورت میں اگر حق تلفی کریگا۔ یا اپنے رشتہ داروں کو ابتلاء میں ڈالیگا۔ تو طریق وسطی کو چھوڑ دیگا۔ اور اس کے خرچ کا نام اسراف ہوگا ۔ ہے غرض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں۔ جو اصول کے طور پر ہوتی ہیں۔ اور جن پر بنیاد ہوتی ہے ۔ بالعموم