خطبات محمود (جلد 6) — Page 413
77 اتفاق واتحاد کے متعلق اسلامی تعلیم کی تمہید ) فرموده ۲ را پریل ته ) ( حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ : انسان اور خدا تعالے کا تعلق ایک روحانی تعلق ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ بہت لوگوں کو اس میں غلط فہمی ہوتی ہے۔ جب وہ یہ کہتے ہیں کہ بندے اور خدا کا تعلق روحانی ہے ۔ تو وہ اس طرح کہتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گویا بندے اور خدا کا تعلق جسمانی نہیں اگر چہ بظاہر یہ ایک معمولی بات ہے مگر عظیم الشان تغیرات پیدا کرتی ہے۔ تھوڑے تھوڑے فرق سے اعمال و عقائد ، حرکات و سکنات پر ، بڑا اثر پڑتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے بڑے نتائج پیدا ہوتے ہیں معمولی معمولی فقرات ہوتے ہیں۔ ان پر ایک حد تک عمل بھی ہوتا رہا ہے ۔ مگر چونکہ وہ علیحدہ صورتوں میں سامنے نہیں ہوتے ۔ اس لیے ان سے خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا ۔ مگر جب وہ ایک معین صورت میں سامنے آتے ہیں تو پھر ان سے عجیب عجیب علوم کا انکشاف ہوتا اور تغیرات پیدا ہوتے ہیں۔ ظاہری علوم کے لحاظ سے ایک اصول ہے جس کو مسئلہ ارتقاء کہتے ہیں۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ ہر ایک چیز ترقی کی طرف جارہی ہے۔ اس اصول کے ماتحت بہت سے نئے علوم معلوم ہوتے ہیں میرے نزدیک جب سے علم ادب محفوظ چلا آتا ہے۔ اگر دیکھا جائے گا تو یہ اشارات ملیں گے۔ مگر چونکہ وہ بعض اشارات تھے۔ اصول معین کے طور پر نہ تھے ۔ اس لیے ان سے وہ فائدہ نہیں ہوا جو اس وقت سے ہوا۔ جب سے یہ مسئلہ اصول کے طور پر دنیا کے سامنے آیا ۔ چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پچاس ساٹھ سال سے پہلے دنیا کی ترقی کی جو رفتار تھی ۔ اس کے بعد کہیں زیادہ ہوگئی اور علوم میں بالکل تغیر آگیا۔ تاریخ بدل گئی۔ طبقات الارض کے علم میں عجیب عجیب باتیں پیدا ہوئیں ۔ ستاروں کے متعلق انکشافات ہوتے گویا کہ دنیا نئی ہو گئی ۔ اور دنیا کی ہر ایک چیز نتی ہو گئی ۔ یہ سورج اور ستارے ان کے متعلق پہلے خیال تھا کہ جس طرح یہ پہلے دن بنائے گئے تھے۔ اسی