خطبات محمود (جلد 6) — Page 390
73 ہم بڑھیں گے کیونکہ ہم میں بڑھنے کی قابلیت کے فرموده ۱۳ فروری ته ) ( تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا کہ د ہر ایک چیز اور ہر ایک کام کے لیے ایک وقت ہوتا ہے اور وہ اپنے وقت سے ادھر ادھر نہیں ہو سکتا ۔ انسان کے کمال تک پہنچنے کے لیے بھی ایک وقت ہوتا ہے۔ انسان کے جسمانی کمال کو اگر دیکھیں - تو بچہ رحم مادر میں یا گیارہ مہینہ میں کامل ہوتا ہے ۔ اگر کوئی چاہے کہ یہ کمال جو بچہ اتنی مدت میں حاصل کرتا ہے۔ بچہ کو تین چار مہینہ میں حاصل ہو جائے۔ تو یہ اس کی نادانی ہوگی ۔ اس میں شک نہیں کہ بہت بچے کو چارمین ہوجائے یہاس ہوگی۔ اس میں کہ سے کاموں میں کوشش کو دخل ہوتا ہے۔ مگر کوشش کے لیے بھی خاص دائرے ہوتے ہیں۔ ان ہے دائیروں کے اندر ہی ترقی و تنزل ہو سکتے ہیں۔ ان کے باہر نہیں ۔ پھر پیدائش کے بعد تکمیل عقل کا زمانہ آتا ہے ۔ اس کے لیے بھی ایک وقت مقرر ہے جسمانی بناوٹ کے کمال کی طرح بلوغت کے حاصل ہونے کے لیے بھی ۱ سے ۲۱ سال تک کا زمانہ مختلف ممالک میں ہوتا ہے۔ اس میں یہ تو ہوتا ہے کہ ان مالک میں جو زمانہ عقلی بلوغت کا ہو ۔ اس میں کسی حد تک کمی یا زیادتی ہو جائے مگر یہ نہیں کہ وہ نقشہ بالکل ہی بدل جائے ۔ مثلاً جن ممالک میں ۲ سے ۱۵ سال تک بلوغت ہے ۔ وہاں ۱۱ یا ۱۶ سال تو ہو سکتا ہے مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ چھ سال میں یا بیس بائیس سال میں جاکر ہو ۔ یا حس ملک میں ۲۱ سال ہے وہاں وا یا نہیں یا بائیں تو ہو سکتا ہے ۔ مگر یہ نہیں کہ دس گیارہ برس میں ہی بلوغت حاصل ہو جائے۔ تو تکمیل کے لیے جو عرصہ ہے ۔ اسی میں ایک چیز مکمل ہو گی اور کوشش کے یہ معنے ہیں ۔ کہ اس عرصہ میں جو اس کی تکمیل کے لیے مقرر ہے۔ اور جو دائرہ اس کے لیے بنایا گیا ہے اس میں کچھ کمی واقع ہو جائے ۔ اور یہی قانون قدرت ہے۔ ایک دائرہ اردو کے لحاظ سے اختیار و جبر یا قدرت الٹی کا بھی ہے کہ اس کے اندر ایک حد تک انسان مجبور بھی ہوتا ہے۔ مگر جن باتوں میں مجبور ہوتا ہے شریعیت میں ان امور کے لیے کوئی سزا نہیں ۔