خطبات محمود (جلد 6) — Page 386
۱۳۸ اگر ہماری جماعت کے لوگ اس گھر کو اچھی طرح سمجھ لیں اور یہ قطعی فیصلہ کر لیں، کہ اپنے فوائد کو جماعت کے فوائد پر قربان کر دینگے۔ وہ فیصلہ کر لیں کہ اگر ان کا مال جاتا ہے تو جاتے مگر جماعت کو کوئی فائدہ ہو۔ اگر ان کی جان جاتی ہے تو جاتے ۔ مگر جماعت کو فائدہ ہو۔ اگر ان کی جائیداد جاتی ہے ہو۔ کی ہو۔ ان کی تو جائے مگر جماعت کو فائدہ ہو۔ اگر یہ بات ہو جاتے اور جماعت کا ہر ایک فرد اپنے فوائد پر جماعت ہو۔ اگر یہ بات ہو جاتے اور کا ہر فرد پر کے فوائد کو مقدم کرلے ۔ تو جس طرح سات سو صحابہ نے کہا کہ ہم تباہ نہیں ہو سکتے ۔ اسی طرح ہم تو خدا کے فضل سے لاکھوں ہیں۔ ہمیں خدا کے فضل سے کوئی طاقت تباہ نہیں کر سکتی۔ اور اگر یہ بات ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا ترقی کا قدم بہت تیزی سے اُٹھے اور ہم بہت جلد دنیا میں پھیل جائیں مگر افسوس ہے کہ ابھی ہماری جماعت میں اس بات کی کمی ہے۔ میری چونکہ آج طبیعت اچھی نہیں۔ جب صحت ہوگی میں انشاء اللہ اس پر تفصیل سے بیان کروں گا اور بتاؤں گا کہ کسی طرح ذاتی فوائد و اغراض و احساسات کو جماعت کے فوائد میں آسانی سے قربان کر دنیا چاہیئے۔ الفضل ، فروری ته )