خطبات محمود (جلد 6) — Page 376
٣٧٦ 70 دعوت الی اللہ کیلئے ایک نیا میدان ) فرموده ۲۳ جنوری ) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- 4 اللہ تعالیٰ نے جس غرض سے اس جماعت کے اس جماعت کو کھڑا کیا ہے۔ وہ غرض اتنی بڑی اور اتنی بڑی اور اہم ہے کہ اس کے پورا کرتے کے لیے غیر معمولی سامانوں اور غیر معمولی محنت اور غیر معمولی کوشش کی ضرورت ہے حکومتیں جس کام کو حاصل نہیں کر سکتیں، اور سیاستیں جس کام کے کرنے سے عاجز ہیں۔ علماء و فضل حسین مقصد کے پانے سے عاجز ہیں ۔ امراء اور دولت مند مند جس غایت تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ اس مقصد تک ایک غریب بے سامان ، بے حکومت اور کمز در جماعت کا پہنچنا معمولی بات نہیں۔ اس وقت ہر ایک زبان اقرار کر رہی ہے ۔ گو وہ اقرار کیسے ہی پردے میں ہو کہ دنیا کو ایک تبدیلی کی ضرورت ہے۔ گویه اقرار مختلف حالات کے ماتحت بڑا پوشیدہ ہوتا ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ دنیا کو ایک تغیر کی ضرورت ہے۔ ہر مذہب کے پیرو ہر ملک کا باشندہ ہر ایک حاکم ہر ایک فرد عایا اقرار کرتا ہے کہ ایک تغیر کی ضرورت ہے ۔ دنیا جس رنگ میں ہے۔ وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا۔ یا تویہ انتظام ٹوٹ جائیگا ۔ اور بنی نوع انسان قدیم وحشت کی طرف لوٹ جائیں گے ۔ یہ تمام کوششیں اور یہ تمام ترقیاں ایک پراگندہ خیال کی طرح اڑ جائیں گی یا نیا انتظام کرنا پڑے گا حکومتوں میں جوش ہے ۔ رعایا کے دلوں میں اُمنگیں منگیں ہیں ۔ امراء و غربا - میں کشیدگی ہے۔ آقا و خادم کے تعلقات میں بریں پیدا ہو رہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ انتظام زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا ۔ یا تو یہ سارا