خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 368

۳۶۸ وہ فتح مند فوج کی مانند ہو جاتی ہیں پس وقت ایک بڑی عبرت کی چیز ہے۔ ہم پر بھی ایک وقت پچھلے دنوں گزرا ہے کہ ہزار ہا میں سے ہمارے احباب یہاں اکٹھے ہوئے اور ہزار ہا کی تعداد میں مرد عورتیں، بوڑھے جوان اور بچے آئے غرض ہر طبقہ اور ہر جگہ سے آئے۔ اور یہاں جمع ہو کر اکر نے گنا۔ اور بہت سے چلے گئے اور کچھ باقی ہیں۔ اب طبعاً ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اجتماع کس غرض سے ہوا ۔ مومن کی ہر ایک چیز قیمتی ہوتی ہے۔ اس کا مال قیمتی ۔ اس کا وقت قیمتی پس ہم کیوں جمع ہوئے ، کس لیے یہاں آتے۔ کیا نتیجہ ہوا؟ کس لیے یہاں آئے ؟ اس کو ہر ایک شخص اپنے طور پر خود ہی حل کر سکتا ہے۔ کیونکہ کسی کو دوسرے کے دل کا حال معلوم نہیں ہو سکتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسامہ کو فرمایا ۔ هَلْ شَقَقْتَ قلبہ قَلْبَه کیا کیا تو نے اس کا دل پھاڑ کر دیکھا ہے پس جا جہاں اکثر لوگ محض خدا کی خوشنودی اور رضا کے لیے آتے ہیں۔ وہاں ان دنوں چور بھی آجاتے ہیں نہیں میں اس کا جواب نہیں دے سکتا ۔ ہر ایک شخص اپنی حالت کو دیکھ کر خود ہی بتلا سکتا ہے کہ وہ کیوں آیا، دوسرا نہیں بتلا سکتا ۔ ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کس لیے آنا چاہتے تھا ؟ اگر ہم یہ بتلائیں بھی کہ کس غرض سے یہاں آتے۔ تو ممکن ہے۔ کہ آنے والے کی غرض اس سے اعلیٰ ہو یا ادنی ہو۔ پس ہم ہی کہہ سکتے ہیں گریس لیے آنا چاہیئے تھا۔ اور وہ یہی ہے کہ خدا کی رضا جوئی کے لیے آنا چاہیئے تھا ۔ اس کام کو چلانے کے لیے آنا چاہتے تھا ۔ جو خدا نے جماعت احمدیہ کے سپرد کیا ہے ۔ اب رہا یہ کہ کیا سکھایا گیا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو جو خدا نے چاہا وہ یہاں کہا گیا بعض نے ضروری باتیں بیان کیں۔ اور دوسروں نے نہیں۔ نتیجہ کیا ہوا ؟ سب سے اہم سوال اصل میں نتیجہ کا اصل میں نتیجہ کا سوال ہی ہے کیونکہ جو کچھ گزر گیا ۔ وہ ہے کیونکہ جو کچھ گزر گیا۔ وہ تو گزرہی گیا اب آئندہ کے متعلق سوال ہے ۔ اس موقع پر جو کچھ بتایا اور کنایا گیا۔ اس میں سے بعض علم کو بڑھانے والی باتیں تھیں بعض روحانیت کو ترقی دینے والی اور بعض آپس کے معاملات کے متعلق اور بعض تبلیغ سے تعلق رکھنے والی یہ چار قسم کی باتیں تھیں۔ جو سنی اور سنائی گئیں ۔ پس اب قابل غور سوال : خور سوال ہمارے سامنے یہ ہے کہ اس آمد سے آنے والوں نے نتیجہ کیا نکالا اور فائدہ کیا اُٹھایا ۔ اور آیندہ علم کی ترقی کے لیے کیا طریق عمل سوچا ہے کیونکہ اگر علم کو یاد رکھنے کی کوشش گرعلم نہ کی جائے۔ تو علم کام نہیں دے سکتا لیس میں آپ لوگوں کو توجہ دلاؤں گا۔ کہ جو کچھ آپ نے سنا ہے اس کو یاد رکھنے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔ علم کی مثال تصویر کی سی ہے ۔ کہ جوں جوں م ں مصور اس پر رنگ مسلم کتاب الایمان باب من مات لا يشرك بالله دخل الجنة