خطبات محمود (جلد 6) — Page 363
ی کی امان میں کہا تھا۔سات بھی ہوں یا ہی نہیں تھی اور لگن سے کام لیتے تھے میرا کو نام معلوم نہ تھے۔اس طرح ہم زبانوں کو دیکھتے ہیں۔ملا عربی گرامر جب پیدا ہوئی۔اس کے قبل کی زبان کو اگر دیا جائے تو وہ زیادہ اعلیٰ درجہ کی ہے بہ نسبت بعد کی زبان کے اس سے معلوم ہوا کہ زبان کو صرف و نحو نے مددنہیں دی۔البتہ فی شخص کے لیے جو اس زبان کو سیکھنا چاہیے۔سیکھنے میں مقید ہوسکتی ہے جگر اپل زبان کے لیے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔اسی طرح نماز پڑھنے والے کے لیے ان باتوں کا معلوم ہونا وضو کے یہ فوائد ہیں۔اور فلاں بات کے یہ۔سوائے اس کے علم کو بڑھانے کے اور کوئی نتیجہ نہیں پیدا کر سکتی۔رض یہ ایک غلطی تھی کہ اول تولوگ رقم کی آزادی سے محروم تھے۔دوسرے انتہا درجے کے آزاد تھے۔اسلام نے وسطی طریق بتایا۔اور اصول بتا دیتے کہ کہاں تک آزادی ہے اور کہاں تک قید آج کل لوگ آزادی کے غلط معنے سمجھنے کی وجہ سے کہ دیا کرتے ہیں۔کہ ہم تو فلاں شخص کے منہ پر فلاں بات کہہ دیں۔اس قسم کی باتیں فساد کا موجب ہوتی ہیں کیونکہ ایسی حالت میں فطرت مقابلہ کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے۔اس لیے ضرورت تھی کہ کوئی حد ہو خصوصاً ایک معلم کے لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس کے لیے علم مہیا کیا گیا ہے۔مثلاً ایک شخص جو جنگل میں ہو اور تمدن نے اس پر کوئی اثر نہ ڈالا ہو۔اول تو اس میں جھوٹ کی عادت نہ ہوگی۔تاہم اگر وہ جھوٹ بولے گا۔تو ہم کہیں گے کہ وہ غلطی کرتا ہے۔کیونکہ اس کو بتلانے والا نہ تھا، لیکن جس کو بتا یا گیا ہو۔وہ اگر جھوٹ کا مرتکب ہو تو وہ قابل ملامت ہوگا۔پس ایک مسلمان کو تمام وہ باتیں جو اسے بچا لانی چاہئیں۔خدا نے تا دی ہیں اور پھر اس کے رسول نے ان کی شرح کر دی ہے۔پھر ائمہ نے ان کی مزید شرح کر دی ہے اب ایک مسلم کے لیے ترقی کا رستہ کھلا ہے۔اس کو قدم اُٹھانا چاہیتے اور ان ہدایات پر عمل کرنا چاہیئے۔جو اسلام نے اس کو دی ہیں۔اگر یہ ان ہدایات اور اس قدر روشنی کے باوجود گرتا ہے۔تو یہ زیادہ الزام کے نیچے ہے کیونکہ جو شخص اندھیرے میں چلتا ہوا ٹھوکر کھا کر گرتا ہے۔وہ مجبور ہے لیکن وہ شخص جس کیلئے ہدایت کا سورج چڑھایا گیا اس کیلتے گرنے کا مقام نہ تھا اسکو چاہیئے تھا کہ وہ غور کرتا اور ان ہدائیتوں پر عمل کرتا۔واللہ اور اللہ کے رسول اور اسکے ناتہوں نے اسکے سامنے رکھیں مسلمانوں کی یہ مثال ہے جیسے ایک شخص امینی شہر میں جاتے مگر اس کے ساتھ ایک گائیڈ درمیر) ہو۔اس کو اس شہر کے جن جن مقامات کی سیر کرنی ہو گی۔وہ بہت آسانی سے دکھلا دے گا، لیکن اگر یہ اس گائیڈ