خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 362

۳۶۲ کے لیے ہے اور سب کے لیے جو نہاتے دھوتے صاف ستھرے رہتے ہوں صحابہ میں سے بہت سے ہیں جو روزانہ غسل کرتے تھے۔ حضرت عثمان بن کے متعلق آتا ہے۔ کہ وہ روزانہ غسل کرتے تھے وہ گندے نہ تھے، مگر روزانہ وضو کرتے تھے۔ اسلام نے ناپاکی کومٹایا اور پاگیزگی کو قائم کیا پس وضو صرف پاگیزگی کے لیے نہیں بلکہ روحانیت کے حصول کا ذریعہ ہے ۔ جس وقت تک تو یورپ سے آوازہ آرہی تھی کہ وضو وغیرہ کام محض جاہلوں کو پاک کرنے کیلئے ہوتے تھے ان سے متاثر لوگ بھی ہیں آواز اٹھاتے تھے ۔ اور وضو وغیرہ کاموں کو لغو ٹھہراتے تھے مگر اب یورپ نے اس کے خلاف آواز اٹھانی شروع کی ہے۔ اعصاب کے متعلق جو تازہ تحقیقات ہوئی ہے وہ بتلاتی ہے کہ ہاتھ پاؤں اور منہ کو گیلا کرنے سے دماغی حالت میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے ۔ دماغ میں جو طاقت ہے۔ اس میں گرمی پیدا ہو کر آنکھوں اور ہاتھوں وغیرہ کے ذریعہ بہتی جاتی ہے لیکن جب ان اعضاء کو ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے۔ تو ایک سکون پیدا ہو کر توجہ اور یکسوئی پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن ہم اس کے محتاج نہیں کیونکہ جو شخص ایک کام کے فوائد کو تجربہ کر کے دیکھے ہے ۔ اس کے لیے کوئی تحقیق زیادہ اثر انداز نہیں ہو سکتی ۔ ملا ہم ہر روز روٹی کھاتے ہیں۔ اور ابتداء سے لوگ کھاتے چلے آتے ہیں۔ اب یورپ ہزار تحقیقاتیں کرے ۔ اور بتاتے کہ خوراک کے اقسام اور ان کے معہضم ہونے کے اوقات اور ان کے اثرات مگر ان سے روٹی کے مفید ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑسکتا کیونکہ روٹی کے فوائد تجربہ میں آگتے ہیں ۔ میں آگئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ کے مہذبوں کے دانت چالیس برس میں گر جاتے یا گرنے شروع ہو جاتے ہیں، مگر وہ لوگ جو ان کے تجارب اور تحقیقاتوں سے آگاہ نہیں۔ ان سے دانت مدتوں تک سلامت رہتے ہیں۔ پس باوجود اس کے کہ لوگ خوراک کی تعریف سے نا واقف تھے مگر مختلف خوراکیں استعمال کرتے تھے اور ان سے فائدہ اُٹھاتے تھے۔ کیونکہ تجربہ ان کا مفید ہونا ثابت کرتا تھا۔ پس ۔ ہیں جو باتیں تجربہ سے ثابت ہوں ۔ ان کے متعلق انسان علم اور تحقیقات سے وسعت خیال پیدا کر سکتا ہے، لیکن تجربہ پران کا اورکوئی اثر نہیں پڑسکتا ۔ اس طرح مغربی تحقیقاتیں ہمارے خیالات میں وسعت کا موجب ہو سکتی ہیں۔ علم نفس سے انسان چیزوں کو پہچا سکتا ہے مگر یہ چیز اس علم کی وجسے بڑھ نہیں سکتیں مثلانفس والوں نے ہر ایک چیز کی تعریف بتا دی ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ پہلے لوگ تعریف نہ جانتے تھے انہوں نے اس کے اقسام بتا دیتے ۔ اور ظاہر کر دیا کہ دماغ کی اس قدر کیفیات ہوتی ہیں ۔ مثلاً ایک تو ہم ہوتا ہے۔ ایک تصویر - ایک شعور ہوتا ہے۔ ایک احساسات ہوتے ہیں۔ ایک جذبات وغیرہ وغیرہ جیب