خطبات محمود (جلد 6) — Page 361
۳۶۱ اور اس کے مقابلہ میں یورپ کے فلسفہ سے متاثر ہو کر ہر شرعی حکم کو غلط ٹھہرانے والے یا ان پر جرح سے کر نیوالے بھی غلطی کرتے ہیں ۔ غیر تو غیر مسلمانوں میں اس قسم کے لوگ ہیں۔ جو کہ دیتے ہیں کہ نماز ایک فضول کے کہ کہ چیز ہے۔ یہ تو ان لوگوں کے لیے تھی۔ جن پر تہذیب کی روشنی نہ پڑی تھی۔ اور جبکہ ابھی تہذیب تمدن کمال کو نہ پہنچے تھے۔ یہ عرب کے وحشیوں کو پابند کرنے کے لیے ایک تو ہمانہ طریقی تھا جس سے وہ خیال کرتے تھے کہ ہم ان حرکات کے ذریعہ خدا کے سامنے ہو جاتے ، لیکن اب ہم سمجھ گئے ہیں۔ اس لیے ان ظاہری حرکات کی ضرورت نہیں ۔ اسی طرح مسلمانوں میں ہیں جو کہ دیتے ہیں کہ وضو کی کوئی ضرورت نہیں یہ ان لوگوں کے لیے تھا۔ جو نہانے دھونے کے پابند نہ تھے۔ اب شرفاء اور یورپ کے تعلیم یافتہ پاک صاف رہتے ہیں ۔ اس لیے وضور کی بھی انہی کے لیے ضرورت تھی ۔ ہمارے لیے نہیں۔ اسی طرح روزے کے متعلق کہ دیتے ہیں کہ روزہ کیا ہے محض فاقہ کشی جس کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ہم خدا کی عظمت کے لیے یہ تو کر لیا کرینگے۔ کہ ڈنر دن میں نہ کیا کریں۔ صرف چار دن میں دو تین دفعہ پی لیا کرینگے نگے جس کے ساتھ چند بسکٹ بھی کھائیں گے۔ سارا دن فاقہ کرنے کا کیا فائدہ ۔ غرض جس قدر احکام شریعت تھے ۔ ان سب کے متعلق کہ دیا کہ ہم خوب سمجھ گئے ہیں۔ یہ تمام باتیں محض ڈرانے اور مرعوب کر کے خدا کی طرف متوجہ کرنے کے لیے تھیں۔ حالانکہ نماز قید نہ تھی ۔ اور روزہ ٹھو کا مارنے کے لیے نہ تھا۔ اگر یہ بات ہوتی ۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہ نہ فرماتے کہ جو شخص روزه رکھتا ہے۔ مگر اپنی زبان اپنی آنکھ اپنے ہاتھ اپنے پاؤں کو قابو نہیں رکھتا۔ تو یہ محض فاقہ کشی ہوگی ہے پھر قرآن کریم روزے کے متعلق یہ نہ فرماتا کہ اگر تم روزہ رکھو گے تو تم کو تقویٰ نصیب ہو جائے گا ہے نماز وہم کے لیے نہ تھی۔ نہ وحشیوں کو ظاہری شکل سے متوہم اور متاثر کرنے کے لیے تھی۔ بلکہ نماز میں جس قدر حرکات ہیں۔ وہ سب اپنے اندرحکمتیں پوشیدہ رکھتی ہیں اور ہر حرکت کے روحانی فوائد مرتب ہوتے ہیں اور یہ تمام باتیں روحانی ترقی کیلئے م ہیں ۔ اسلام نے کوئی حکم ڈرانے کیلئے نہیں دیا۔ بلکہ اسلام نے جسقدر احکام دیتے ہیں وہ سب کے سب روحانی ترقی کے لیے ضروری اور لابدی ہیں۔ نماز کی ہر ایک حرکت روحانیت کو بڑھاتی ہے روزہ بھوکا مارنے کے لیے نہیں ۔ روحانیت کو ترقی دینے کے لیے ہے۔ زکواۃ و صدقات محض حکومت کے انتظام میں مدد دینے کے لیے نہیں بلکہ روحانیت کے لیے ہے ۔ اسی طرح وضو میں بھی یہی بات ہے ۔ پس وضو ان لوگوں کے لیے نہیں۔ جن کو وحشی کہا جاتا ہو یا جو گندے رہتے ہوں ۔ بلکہ ان له بخاری بروایت مشکوة كتاب الصوم باب تنزیہ الصوم : له البقره : ۱۸۴