خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 349

۳۴۹ چاہتے تیار کروں ۔ انڈا ابلواؤں ۔ آپ کو فلاں چیز کی ضرورت ہوگی ۔ پلاؤ تیار کراؤں ۔ مرغ کے کباب بناؤں آپ تشریف رکھتے ہیں آپ کے کھانے کی فکر کرتا ہوں ۔ وغیرہ وغیرہ۔ لائی تو ایک ہی چیز ہوتی ہے مگر اس فہرست کے گنے سے یہ مقصود ہوتا ہے کہ کم از کم دو دو تین تین دفعہ مہمان بھی کہے کہ آپ کا احسان آپ کی مهربانی ۔ لوگ اکرام تو کرتے ہیں۔ مگر اکرام نیف کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ مگر حضرت ابراہیم نے یہ نہیں کیا بلکہ ان کو بٹھایا اور خاموشی اور خفیہ طریق سے اپنے اہل کی طرف گئے۔ داغ کے معنے ہوتے ہیں ۔ خفیہ جانا ۔ اور یہ لفظ شکاریوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے ان اصل معنوں کو چھوڑ کر اور معنے کہتے ہیں مگر میرے نزدیک اصل معنوں سے شان بڑھتی ہے پس جس طرح شکاری شکار پر جاتا ہے کہ کہیں شکار کوخیر نہ ہو جاتے۔ اسی طرح ابراہیم بھی چیکے سے کھسک گئے اور فوراً ایک موٹا تازہ معجل بچھڑا) ذبح کر کے اور کھانے کے لیے تیار کر کے لے آئے مگر وہ تو عذاب کے لیے آتے تھے۔ توالسی حالت میں کھانا واناکس کو سوجھتا ہے انہوں نے نہ کھایا ۔ اس میں اختلاف ہے کہ آیا وہ فرشتے تھے یا آدمی ، اگر وہ فرشتے تھے تو انہوں نے کھانا ہی نہ تھا ہر حال وہ کوئی ہوں۔ حضرت ابراہیم نے کھانا لا کر رکھا۔ مگر انہوں نے نہیں کھایا۔ ان کے کھانا نہ کھانے پر حضرت ابراہیم نے بڑا نہیں منایا ۔ جیسا کہ ایسے موقع پر بعض لوگ کہدیا کرتے ہیں۔ کہ ہم نے تو ان کے لیے یہ کچھ تیاری کی۔ پرانہوں نے قدر نہ کی۔ مگر ابراہیم کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انہوں نے مہمانوں کے اس فعل سے برا نہیں منایا کہ انہوں نے کھانا کیوں نہ کھایا ۔ بلکہ فرماتا ہے ۔ فَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً ۔ اس آیت کے متعلق کہتے ہیں کہ ابراہیم اپنے دل میں ڈر گئے ۔ کہ کہیں یہ ڈاکو نہ ہوں مگر میں کہتا ہوں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم کو خوف اس بات کا ہوا کہ کہیں مجھ سے مان نوازی میں تو کسی قم کی کوتاہی نہیں ہوئی ۔ ابراہیم کے متعلق ہ کہنا کہ وہ مانوں کو ڈاکو بجھ کر ڈر گئے غلی ہے۔ کیونکہ ابراہیم تو وہ ہیں جو اکیلے بادشاہ کے جھگڑے سمجھانے کے لیے چلے جاتے ہیں ہے وہ ڈاکوؤں سے کیا ڈرتے ۔ ان کو جو خوف ہوا ۔ وہ یہی تھا کہ کہیں مہمان نوازی میں تو کسی قسم کی کوتا ہی نہیں ہوئی ۔ مہمان پر ناراض نہیں ہوتے نفس کو الزام دیا کہ تجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہوگی۔ مگر مہمانوں نے جو کھانا نہیں کھایا تھا۔ اس راز کو خود انہوں نے ہی کھول دیا کہ ہم کس کام پر آتے ہیں۔ تو اکرام خند ضیف ایک فطری تقاضہ ہے اور شرعی حکم بھی ہے ۔ اس لیے اب یہ محض فطری بات نہ رہی پیداتش